چرچل کا ایک معتقد

چرچل کا ایک معتقد
سر ونسٹن چرچل کو جلد سے جلد پہنچنا تھا، اس لیے وہ ایک ٹیکسی میں سوار ہوکر ڈرائیور سے بولے: ” برٹش براڈ کاسٹنگ ہاؤس چلو ” ڈرائیور ان کی طرف دیکھ کر لا پرواہی سے بولا: ” مجھے افسوس ہے میں اس وقت یہ جگہ نہیں چھوڑ سکتا کیونکہ ٹھیک نصف گھنٹہ بعد مسٹر چرچل کی تقریر نشر ہوگی جسے میں کسی قیمت پر نظر انداز نہیں کر سکتا میں اپنے وزیرِ اعظم کی تقریر ضرور سنوں گا ” چرچل نے یہ سنا تو بہت خوش ہوئے اور اسی خوشی کے عالم میں ڈرائیور...read more

تعاقب

تعاقب
ایک دفعہ کا واقعہ ہے، سر سید احمد خان ٹرین میں سفر کر رہے تھے کہ ان کے ڈبے میں ایک انگریز آکر بیٹھ گیا، سر سید کو ناگوار گزرا لیکن وہ خاموش رہے، کچھ دیر بعد انہیں بھوک محسوس ہوئی تو انہوں نے اپنا ناشتہ دان کھول کر رکھا اور ہاتھ دھونے کے لیے غسل خانے میں چلے گئے، لوٹ کر آپ نے دیکھا تو ناشتہ دان غائب پایا، دراصل انگریز نے ان کی غیر حاضری میں ناشتہ دان چلتی گاڑی سے باہر پھینک دیا تھا، سر سید کو غصہ تو بہت آیا لیکن وہ پی گئے...read more

برجستگی کلام

برجستگی کلام
مولانا ظفر علی خان اپنے دور کے قادر الکلام شاعر تھے، ایک محفل میں مولانا ظفر علی خان ایک کرسی پر بیٹھے تھے اور ان کی ساتھ والی کرسی پر مولانا ابو الکلام آزاد تشریف فرما تھے، مولانا آزاد نے منتظمین کو پکار کر پینے کے لیے پانی طلب کیا، فوراً ہی ایک سفید ریش بزرگ نے کونے میں دھری ایک میز سے پانی کا گلاس اٹھایا اور بڑی عقیدت سے مولانا آزاد کی خدمت میں پیش کردیا، مولانا آزاد نے پانی کا گلاس ہاتھ میں لے کر برجستہ کہا: لے کر...read more