اپنی بات منوانے کے لیے

اپنی بات منوانے کے لیے
اس واقعہ کے راوی شہداد پور کے صحافی محمد ظفر لودھی ہیں.. قتل کا مقدمہ بڑی حد تک خراب ہوچکا تھا، آخر کار ملزم کا وکیل اس نتیجے پر پہنچا کہ جیوری کے کسی رکن کو رشوت دینا ضروری ہے، اس نے کوشش کی اور ایک رکن کو رضا مند کرلیا کہ اگر وہ ملزم کو سزائے موت کی جگہ جیوری سے عمر قید کی سزا کا فیصلہ صادر کرادے گا تو اسے نقد دس ہزار روپے مل جائیں گے، رکن نے دس ہزار روپے کے لالچ میں حامی بھر لی، فیصلے کے دن جیوری کے ارکان سارا دن بحث میں...read more

ممی کا اعتراف

ممی کا اعتراف
یہ واقعہ پشاور کے ایک صحافی پرویز اقبال نے اپنے ایک دوست کو سنایا تھا، ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی ایک جماعت کو مصر سے ایک ممی موصول ہوئی کہ اس کی عمر کا تخمینہ لگا کر بتایا جائے کہ یہ کس فرعون کے عہد کی ہے، ماہرین سر جوڑ کر بیٹھے اور بھرپور معائنے کے بعد بھی نہ بتا سکے کہ اس ممی کی عمر کیا ہے، ماہرین کے اعترافِ ناکامی کے بعد اربابِ اقتدار نے پولیس کی مدد حاصل کی کہ وہ اس معاملے میں بھی ان کی مدد کرے، پولیس ہر معاملے میں اربابِ...read more

سٹیلا ریمنگٹن

سٹیلا ریمنگٹن
برطانیہ جسے ترقی یافتہ ممالک میں ایک نمایاں مقام حاصل ہے اس لحاظ سے ہمیشہ دنیا کی توجہ کا مرکز رہا ہے کہ وہاں لوگوں کو زندگی گزارنے کے مساوی حقوق حاصل ہیں، برطانیہ کے بارے میں کبھی کہا جاتا تھا کہ یہ وہ عظیم سلطنت ہے جس کے اقتدار کا سورج کبھی غروب نہیں ہوتا، اس کی وجہ یہ تھی کہ برطانیہ کی دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک اجارہ داری تھی، برطانوی زیرِ تسلط علاقوں میں سے اگر ایک حصے میں دن کا سماں ہوتا تو دوسرے حصے میں رات...read more

تعاقب

تعاقب
ایک دفعہ کا واقعہ ہے، سر سید احمد خان ٹرین میں سفر کر رہے تھے کہ ان کے ڈبے میں ایک انگریز آکر بیٹھ گیا، سر سید کو ناگوار گزرا لیکن وہ خاموش رہے، کچھ دیر بعد انہیں بھوک محسوس ہوئی تو انہوں نے اپنا ناشتہ دان کھول کر رکھا اور ہاتھ دھونے کے لیے غسل خانے میں چلے گئے، لوٹ کر آپ نے دیکھا تو ناشتہ دان غائب پایا، دراصل انگریز نے ان کی غیر حاضری میں ناشتہ دان چلتی گاڑی سے باہر پھینک دیا تھا، سر سید کو غصہ تو بہت آیا لیکن وہ پی گئے...read more

نور النساء عنایت خان

نور النساء عنایت خان
جب بھی دنیا کی عظیم جاسوس خواتین کی تاریخ لکھی جائے گی شہزادی نور النساء عنایت خان کا نام ضرور شامل ہوگا، نور النساء جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے کہ ایک مسلم گھرانے سے تعلق رکھتی تھی، وہ یکم جنوری 1914ء کو موسکو روس میں پیدا ہوئی، اس کا تعلق ٹیپو سلطان کے خاندان سے تھا، شہزادی نور النساء کے والد عنایت خان اپنے وقت کے صوفی سمجھے جاتے تھے، وہ روحانی طریقے سے مختلف امراض کا علاج کرنے کی وجہ سے دور دراز کے ممالک میں بھی شہرت...read more

شلمینا کشک کوہن

شلمینا کشک کوہن
اسرائیل کی جو شکل آج ہمیں نظر آتی ہے یا یوں کہیے کہ اسرائیل آج ہمیں اگر درخت کی صورت میں نظر آتا ہے تو اس کی ایک تاریخ ہے، اس درخت کو درخت بنانے میں بہت سے عوامل کارفرما تھے، اسرائیل مٹھی بھر یہودیوں کی کوشش کے باعث صفحہ ہستی پر نہیں ابھرا تھا، بلکہ اس کو معرض وجود میں لانے کے لیے ایک طویل منصوبہ بندی کی گئی تھی، جس کی جھلک ہمیں اس خاتون جاسوس کی زندگی پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے دکھائی دے جاتی ہے جو یہودی تھی، جس نے جاسوسی...read more

لیڈیا دارہ

لیڈیا دارہ
امریکہ جو دنیا میں سپر پاور بن کر حکمرانی کر رہا ہے کبھی غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا، امریکہ کو ایک آزاد اور عظیم ملک بنانے میں مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے، ان عورتوں نے جاسوس کے روپ میں ایسے کارنامے انجام دیے ہیں جو آج بھی تاریخ میں زندہ جاوید نظر آتے ہیں، ان ہی عورتوں میں ایک عظیم جاسوس لیڈیا دارہ (Lydia Barrington Darrah) (اس نام کے ہجے Darragh اور Darrach بھی کیے جاتے ہیں) تھی جو 1729ء میں آئرلینڈ کے شہر...read more

برجستگی کلام

برجستگی کلام
مولانا ظفر علی خان اپنے دور کے قادر الکلام شاعر تھے، ایک محفل میں مولانا ظفر علی خان ایک کرسی پر بیٹھے تھے اور ان کی ساتھ والی کرسی پر مولانا ابو الکلام آزاد تشریف فرما تھے، مولانا آزاد نے منتظمین کو پکار کر پینے کے لیے پانی طلب کیا، فوراً ہی ایک سفید ریش بزرگ نے کونے میں دھری ایک میز سے پانی کا گلاس اٹھایا اور بڑی عقیدت سے مولانا آزاد کی خدمت میں پیش کردیا، مولانا آزاد نے پانی کا گلاس ہاتھ میں لے کر برجستہ کہا: لے کر...read more

« سابقہ موضوعات اگلے موضوعات »