کرامت کی کرامتیں

مجھ سے ان کی دوستانہ دشمنی تھی، وہ بریلوی مکتبِ فکر سے تعلق رکھتے تھے اور مذھبی معاملات میں خاصے حساس واقع ہوئے تھے، مذہبی معاملات میں ان کو چھیڑنا گویا اپنے لیے ایک اچھی خاصی مصیبت کھڑی کرنا تھا.. اس لحاظ سے میں انہیں مذاقاً طوطا کہتا تھا.. ان کی بڑی خواہش تھی کہ میں مرجاؤں تاکہ وہ میری قبر پر مجرا کراسکیں اور میرے قُل پڑھائیں اور چالیسواں کریں.. اور صرف یہی نہیں.. اس سے آگے بھی ان کے کچھ پلان تھے.. وہ کہتے تھے: جس دن تم مرو گے میں ایک بہت بڑا مجرا آرگنائز کراؤں گا جس میں ملک کی نامور طوائفیں حصہ لیں گی اور یہ پروگرام رات گئے تک جاری رہے گا..

وہ سمجھتے تھے کہ میری موت سے اسلام کا بہت بڑا بھلا ہوگا، اور جس دن میں مروں گا زمین سے ایک بہت بڑے وہابی کا بوجھ کم ہوجائے گا، ان کا فتوی تھا کہ مجھے قتل کرنے والے کو سو حج کا ثواب ہوگا..!!

وہ دیوبند یا اہلِ حدیث مکاتبِ فکر کی مساجد میں نماز نہیں پڑھتے تھے، ہاں میرے پیچھے نماز پڑھنے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے تھے..!! بلکہ جب نماز ہوتی تو وہ خود ہی مجھے امامت کے لیے آگے کردیتے، ان کا یہ دہرا پن آج تک سمجھ نہیں آیا..

ان کا تعلق سیالکوٹ سے تھا اور ہم ایک ہی کمپنی میں کام کرتے تھے.. اس طرح گویا ہم کلیگ تھے.. کراچی میں وہ اپنی بہن کے گھر میں رہتے تھے حالانکہ اپنے بہنوی سے ان کی قطعی نہیں بنتی تھی.. کسی وجہ سے ان کے بہنوی پنجاب منتقل ہوگئے اور انہیں رہائش کا مسئلہ آن درپیش ہوا.. با وجود تلاشِ بسیار وہ بر وقت کوئی انتظام نہ کرسکے.. ہم دونوں بھائی چونکہ اکیلے رہتے تھے اور ‘چھڑے چھانٹ’ تھے چنانچہ میں نے انہیں اپنے پاس منتقل ہونے کی دعوت دے ڈالی جو انہوں نے کافی چوں چرا کے بعد قبول کر لی.. پھر کیا تھا.. مناظروں کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہوگیا.. ہم رات گئے تک عقائد پر بحث کرتے اور بھاری بھرکم دلائل سے ایک دوسرے کو زیر کرنے کی کوشش میں لگے رہتے.. میرے بھائی کو چونکہ ہماری یہ باتیں سمجھ نہیں آتی تھیں اس لیے وہ خاموشی سے سب کچھ سنتا رہتا.. ایک دن میں نے کہا: کرامت صاحب ہماری اس بحث میں یہ مرتد ہوجائے گا..!؟

اس بات پر وہ اتنا ہنسے کہ میں سنجیدگی سے ایدھی والوں کو فون کرنے کا سوچنے لگا..

حلال رزق کی بہت تلقین کیا کرتے تھے یہ الگ بات ہے کہ آفس میں سارا دن گیم کھیلتے تھے.. ایک دن میں نے کہا کہ حضرت کام کے اوقات میں گیم کھیلنا تنخواہ حرام کرنا نہیں ہے..؟؟

یہ سننا تھا کہ جلال میں آگئے.. فون اٹھا کر آپریٹر کا نمبر ملایا اور قمر صاحب کا پوچھا.. قمر صاحب ہمارے ڈائریکٹر تھے.. جواب شاید انکار میں تھا اس لیے اٹھے اور واش روم کی طرف نکل لیے..

دوسرے دن علی الصبح قمر صاحب کے دفتر میں گھس گئے اور کہا: سر میرے پاس کام نہیں ہے..

قمر صاحب حیرت زدہ ہوکر بولے: تو میں کیا کروں.

فرمایا: آپ کے پاؤں دبانے آیا ہوں تاکہ رزق حلال ہوسکے..

قمر صاحب نے ان کی اس رزق آوری پر سر پکڑ لیا اور انہیں فارغ اوقات میں کچھ بھی کرنے کی اجازت دے کر جان چھڑائی..

ٹھیٹ پنجابی تھے، اردو بھی بولتے تو ایسا لگتا پنجابی بول رہے ہیں.. آج مجھے جتنی ٹوٹی پھوٹی پنجابی آتی ہے انہی کی صحبت کا اثر ہے..

سیالکوٹ کے کسی ادارے سے بہتر آفر آئی اور وہ مجھ سے پہلے ہی ملازمت چھوڑ کر پنجاب چلے گئے.. کچھ عرصہ تک رابطہ رہا اور فون کے تبادلے بھی ہوتے رہے… مگر پھر شاید انہوں نے اپنا نمبر ہی بدل لیا.. تب سے کرامت صاحب کا کچھ اتا پتہ نہیں..

  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Live
  • Slashdot
  • Technorati
  • Twitter
  • PDF
  • StumbleUpon


تبصرہ کریں

Englishاردو

Englishاردو