ان شاء اللہ اور انشاء اللہ میں فرق

اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ ‘ان شاء اللہ’ کو ‘انشاء اللہ’ لکھتے ہیں جو کہ درست نہیں ہے.. ابنِ ہشام کی شذور الذہب میں آیا ہے کہ ‘انشاء’ کا مطلب ہے بنانا یا دریافت کرنا، ارشادِ باری تعالی ہے: ‘انا انشانہن انشاء’ یعنی ہم نے (ان عورتوں کو) بنایا ہے.. چنانچہ جب ہم ‘انشاء اللہ’ لکھتے ہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ نعوذباللہ ہم نے خدا کو بنایا ہے..!؟

درست لفظ ‘ان شاء اللہ’ ہے.. ارشادِ باری تعالی ہے: ‘وما تشاؤن الا ان یشاء اللہ’ … اور حضرت یوسف کی زبانی ارشاد فرمایا: ‘ستجدنی ان شاء اللہ من الصابرین’.

امید ہے فرق واضح ہوگیا ہوگا..

  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Live
  • Slashdot
  • Technorati
  • Twitter
  • PDF
  • StumbleUpon


12 تبصرے برائے “ان شاء اللہ اور انشاء اللہ میں فرق”

  1. دوست says:

    انما الاعمال بالنیات
    ہماری نیت کبھی بھی یہ نہیں‌ رہی۔ پہلی بار آپ کے منہ سے سن رہا ہوں‌ اس کا مطلب عورتیں بھی ہوتا ہے۔ جب نیت نہیں‌ تو معنی بھی نہیں۔ ویسے بھی انشاءاللہ اردو میں ایسے ہی لکھا جاتا ہے۔ جیسا کہ الفاظ کو ملا کر لکھنے کا چلن اردو میں ایک عرصے سے عام ہوچکا ہے۔

    دوست’کے بلاگ کی آخری تحریر ہےبابا مشرف (مرحوم)

  2. مکی says:

    آپ کا فلسفہ اپنی جگہ مگر قرآن کا لکھا درست مانا جائے گا، قرآن اٹھا کر دیکھ لیجیے..

  3. بات ٹھیک ہی لگتی ہے ۔ شاید اسی لیے اردو میں “انشا پردازی” کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔
    تصدیق کرنی پڑے گی ۔

    تزک نگار’کے بلاگ کی آخری تحریر ہےPortfolio

  4. دوست says:

    پاء‌ جی قرآن عربی میں ہے۔ ابھی کل ہی پڑھا ہے بوسنیا اور ترکی والے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کوانھی عربی حجوں سے نہیں‌ لکھتے مثلًا ترقی والے میمت لکھتے ہیں انگریزی میں بھی۔ اب یہ لہجے کا فرق ہے یا زبان کا یہ کوئی اتنی سیرئیس بات نہیں ہے۔

    دوست’کے بلاگ کی آخری تحریر ہےبابا مشرف (مرحوم)

  5. مکی says:

    سرکار میں بھی تو یہی کہہ رہا ہوں کہ جب عربی عربی ہجوں اور حروف میں نہیں لکھی جائے گی تو پھر اس زبان کے قانون لاگو ہوں گے جس میں عربی کے وہ الفاظ لکھے جائیں گے جیسے رومن وغیرہ.. مگر اردو کے ساتھ معاملہ مختلف ہے.. اردو عربی رسم الخط کی زبان ہے چنانچہ جو الفاظ عربی کے ہوں گے وہ ویسے ہی لکھے جائیں گے جیسے کہ عربی میں لکھے جاتے ہیں اور جو لکھے بھی جاتے ہیں.. اب آپ خود ہی فیصلہ کریں کہ ‘ان شاء اللہ’ عربی کا جملہ ہے یا اردو کا..؟؟ اگر اردو کا ہے تو جو چاہیں کریں.. لیکن اگر عربی کا ہے تو پھر اس کی درست املاء کا خیال رکھیں.. عربی میں زیر وزبر سے لفظ کا مطلب بدل جاتا ہے یہاں تو آپ پورا کا پورا جملہ بدل کر کہہ رہے ہیں کہ اردو میں الفاظ ملا کر لکھنے کا چلن ہے حالانکہ یہ جملہ اردو کا نہیں عربی کا ہے پھر اس پر کیونکر اردو کے چلن لاگو ہوں گے..؟؟

    ہاں اس جملہ کا اردو ترجمہ کر لیں پھر جیسے چاہیں الفاظ ملاتے رہیں..

    ویسے نون اور شین کے درمیان ایک سپیس دینے میں آپ کا کتنا خرچہ آتا ہے..!؟

  6. ڈفر says:

    بات تو کام کی لگتی ہے۔ کیونکہ میرا علم زیادہ نہیں تصدیق یا تردید کرنے کے لئے تو۔۔۔
    کوشش کروں گا کہ آج کے بعد ان شاء اللہ ہی لکھوں
    تصحیح کا بہت بہت شکریہ

    ڈفر’کے بلاگ کی آخری تحریر ہےحسرتیں

  7. کنعان says:

    لفظ انشاء اللہ ہی درست ھے

  8. مکی says:

    کنعان صاحب تو گویا آپ کو قرآنی دلیل مطمئن نہیں کر سکی..

  9. میریبیٹی کا نام مشعل رکھا گیا اسے ہم زبر سے لکھتے ہیں۔ کیونکہ اردو میں یہ زبر سے بولا جاتا ہے اور اردو کی لغات میں بھی زبر سے ملتا ہے۔ حالانکہ اپنے عربی رسم میں یہ زیر سے لکھا جاتا ہے۔ معنی دونوں الفاظ کے ایک جیسے ہیں۔
    اسی طرح حکیم سعید صاحب ظوظے کو ت سے اور العطش لفظ کو بھی ت سے لکھا کرتے تھے۔ انکا کہنا یہی تھا کہ جن زبانوں سے یہ لئیے گءے ہیں ان میں انہیں ایسا ہی لکحا جاتا ہے۔ مجھے بصد احترام اس راءے سے ایسا اتفاق نہیں رہا۔ جب کوئ لفظ کسی اور زبان میں آجاتا ہے تو پحر اسے اسکی قواعد میں لکھنا چاہءیے اور انہی معنوں میں لینا چاہئیے۔ یہی باقی زبانوں کے ساتھ ہوا ہے۔ سوائے خاص تراکیب کے عام طور پر لفظ کی ساخت تبدیل ہو جاتی ہے۔ دنیا میں سار زبانیں اسی طرح اور زبانوں کے ملنے سے وجود میں آئیں ہیں۔
    اب لفظ اللہ حافظ لے لیں۔ ضیا الحق کے زمانے میں یہ ترکیب متعارف کرائ گئ۔ اس سے پہلے لوگ بالعموم خدا حافظ کہتے تھے اور جو عربی رسوم سے متاءثر تھے وہ فی امان اللہ کہا کرتے تھے۔ لیک جناب کچھ لوگوں نے سوچا کہ لفظ خدا تو اللہ کا مترادف نہیں۔ اس لئیےانہوں نے اسے تبدیل کرنے کی مہم چلائ۔ اور اب بیشتر لوگ اللہ حافظ کہتے ہیں۔ میرے ذاتی خیال میں خدا کو اس سے کوئ فرق نہیں پڑا اور اگر آپ غیر جانبداری سے دیکھیں تو خدا کے بارے میں عام لوگوں کو بھی کوئ فرق نہیں پڑا سوائے اسکے کہ وہ ظاہری معاملات میں زیادہ شدت پسند ہو گئے۔ اسلام کی روح ان ظاہری کلمات میں کھو گئ اور خدا یا اللہ اب بھی انتظار میں ہے کہ ہم اسکے نام لیوا کوئ ڈھنگ کا کام بھی کریں۔
    .-= عنیقہ ناز کے بلاگ کی آخری تحریر ہے blog ..آئ کیو، کم یا زیادہ =-.

  10. یار اس بارے میں علماءکرام سے مسئلہ دریافت کرنا پرے گا۔
    .-= عبدالوھاب کاٹھ کے بلاگ کی آخری تحریر ہے blog ..یہ پہلے ہیکر گڑوپ کی آمد =-.

  11. MUHAMMAD SAEED PALANPURI says:

    مكي صاحب!
    ميري موبائل مين عربي هي بر اردو نهين_لهذا ايسي خراب اردو بر معذرت.

    فدوي كو آبكي بات سي اتفاق هي_بس ايك بات سمجهني هي

    آبني انشاء الله كا ترجمه كيا:هم ني خدا كو بنايا هي_ يه “هم ني” كس كا ترجمه هوا هي سمجه مين نهين آيا كيونكه انشاء كي الف بر زير برهين تو يه مصدر هوكا اور ترجمه هوكا:الله كا بنانا(ابني مخلوق كو)
    اور زبر برهين تو انشاء فعل ماضي هوكااور الله فاعل هوكر ترجمه هوكا:الله ني بنايا هي.
    اورآبني جو ترجمه كيا هي تو اس كيليي جمله هونا جاهئي:
    انشانا الله

    ميني يه تبصره آبكو ميل كرنا جاها بر رابطه نا مل سكا_آب ترديد كرين يا تصديق بهر دو صورت تبصره حذف كي اجازت هي.جواب كا انتظار رهيكا.

  12. جزاک اللہ بھائی

تبصرہ کریں

Englishاردو

Englishاردو