
برطانیہ جسے ترقی یافتہ ممالک میں ایک نمایاں مقام حاصل ہے اس لحاظ سے ہمیشہ دنیا کی توجہ کا مرکز رہا ہے کہ وہاں لوگوں کو زندگی گزارنے کے مساوی حقوق حاصل ہیں، برطانیہ کے بارے میں کبھی کہا جاتا تھا کہ یہ وہ عظیم سلطنت ہے جس کے اقتدار کا سورج کبھی غروب نہیں ہوتا، اس کی وجہ یہ تھی کہ برطانیہ کی دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک اجارہ داری تھی، برطانوی زیرِ تسلط علاقوں میں سے اگر ایک حصے میں دن کا سماں ہوتا تو دوسرے حصے میں رات ہوتی تھی، لیکن اس عظیم الشان سلطنت میں بھی ہمیشہ سے عورتوں کو صنفی بنیاد پر استحصال کا سامنا رہا ہے، اگرچہ برطانیہ میں عورت کی آزادی اور اس کے حقوق کی حفاظت کا بہت شور ہے تاہم برطانیہ میں چند خواتین کے علاوہ اقتدار ہمیشہ مرد حضرات کے پاس رہا ہے، وہاں عورتوں کو مساوی حقوق حاصل ہونے کا دعوی تو کیا جاتا ہے لیکن کیا برطانیہ میں کسی عورت کو فوج کا سربراہ بنایا گیا ہے؟
اسی طرح برطانوی سیکرٹ سروس میں بھی خواتین کو تمام تر صلاحیتوں اور بہترین کارکردگی کے با وجود ترقی دیتے وقت نظر انداز کیا گیا ہے، لیکن برطانوی تاریخ میں ایک خاتون سٹیلا ریمنگٹن (Dame Stella Rimington) نے اس وقت دنیا کو حیرت میں ڈال دیا جب اپنی صلاحیتوں کے باعث اس نے اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے حضرات کو مجبور کردیا کہ وہ اسے سیکرٹ سروس MI5 کا سربراہ بنائیں، یوں برطانوی سیکرٹ سروس کی 83 سالہ تاریخ میں ایک عورت کو پہلی مرتبہ فروری 1992ء میں MI5 کا سربراہ بنایا گیا، سٹیلا ریمنگٹن کی اس حساس ادارے کے سربراہ کے طور پر تعیناتی ادارے کے مرد انٹیلی جینس حکام کو ایک نظر نہ بھائی، برطانوی اخبارات میں خصوصی طور پر ایک طوفان امڈ آیا، حالانکہ اس سے پہلے جب یہ عہدہ مرد حضرات کو تفویض کیا جاتا تھا تو اس کی خبر چند سطروں سے زیادہ نہ ہوتی تھی لیکن سٹیلا ریمنگٹن کی حمایت اور مخالفت میں خبروں اور مضامین کی اشاعت کا ختم نہ ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا.
سٹیلا ریمنگٹن کو کبھی سیکرٹ سروس کا ڈائریکٹر جنرل نہ بنایا جاتا اگر وہ سینیارٹی کے اعتبار سے یہ عہدہ حاصل کرنے کی اہل نہ ہوتی، اپنی تعیناتی پر ایک بیان میں سٹیلا ریمنگٹن نے کہا کہ ہمارے محکمے کے اوپر اہم ذمہ داریاں عائد ہیں میں کوشش کروں گی کہ ان ذمہ داریوں اور مستقبل میں درپیش چیلنجز سے عہدہ برآ ہوسکوں، ممکن ہے کچھ لوگ میری تعیناتی پر حیرت کا اظہار کریں، میں کوشش کروں گی کہ حکومت خصوصاً وزیرِ اعظم کے اعتماد پر پوری اتر سکوں، سٹیلا ریمنگٹن کی تعیناتی کے بعد MI5 میں کام کرنے والی جاسوس خواتین کو خصوصی مراعات دی گئیں اور وہ اپنے پیش رو مردوں سے زیادہ بہتر خدمات انجام دینے میں کامیاب رہی، مئی 1935ء میں پیدا ہونے والی یہ خاتون ایک انجینئر کی صاحبزادی تھی، اس نے 1958ء میں آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کی، سٹیلا ریمنگٹن کی 25 سال کی عمر میں جان ریمنگٹن (John Rimington) سے شادی ہوئی، وہ 1969ء میں سیکرٹ سروس میں شامل ہوئی اور کئی برس تک مختلف شعبوں میں کام کرتے کرتے 1992ء میں سیکرٹ سروس کی سربراہ بنی، برطانوی سیکرٹ سروس میں وہ سیاسی موضوعات پر تجزیاتی رپورٹ لکھنے میں اتھارٹی سمجھی جاتی تھی، اسے اپنے پیشے سے اس قدر لگاؤ تھا کہ وہ کبھی کسی خبر کا حصہ نہ بنی اور نہ ہی اس کی کوئی تصویر اخبار میں شائع ہوئی، تاہم ایک مرتبہ جب اس کے شوہر سے ایک صحافی نے تصویر حاصل کر کے اخبار میں شائع کی تو وہ ہکا بکا رہ گئی، سٹیلا نے اپنے شوہر سے وعدہ لے رکھا تھا کہ وہ اسے کبھی بے نقاب نہیں کرے گا اور کسی کو یہ پتہ نہیں چلنے دے گا کہ اس کی اہلیہ سیکرٹ ایجنٹ ہے، سٹیلا ریمنگٹن جب سیکرٹ سروس میں اہم عہدوں پر تعینات تھی تو وہ سیاستدانوں خصوصاً اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے ارکانِ پارلیمنٹ کے فون ٹیپ کر کے حکمرانوں تک پہنچایا کرتی تھی، سیکرٹ سروس میں اسے کوڈ نام Mrs. R سے پکارا جاتا تھا.
سٹیلا ریمنگٹن نے برطانوی سیکرٹ سروس میں تعیناتی کے دوران ایک پرائیویٹ کمپنی کے لیے بھی خفیہ طور پر خدمات انجام دیں، اس نے اس کام کا معاوضہ بھی وصول کیا، 1996ء کو سیکرٹ سروس میں ملازمت پوری ہوجانے پر سٹیلا ریمنگٹن نے اپنی یادداشتیں قلمبند کر کے ایک برطانوی اخبار کے حوالے کردیں جس کے باعث برطانیہ میں طوفان بپا ہوگیا، سیکرٹ سروس کے مردوں کو یہ کہنے کا موقع مل گیا کہ ایک عورت کو محکمے کا سربراہ بنانے کا یہی انجام ہونا تھا، اس کی یہ یادداشتیں 2001ء میں Open Secret کے نام سے شائع ہوئیں.
ریٹائرمنٹ کے بعد سٹیلا ریمنگٹن نے جاسوسی پر پانچ ناول بھی لکھے جو یہ ہیں:
2004ء میں At Risk
2006ء میں Secret Asset
2007ء میں Illegal Action
2008ء میں Dead Line
2009ء میں Present Danger
یہ ناول کافی مقبول ہوئے جبکہ کچھ دیگر تصانیف دوسرے مصنفین سے ساتھ مل کر مشترکہ طور پر لکھے گئے ہیں.
معلوماتی
سیکرٹ سروس کی ضرورت ایسے معاشرے میں نہیں ہوتی جہاں سب کچھ عوام کی مرضی اور امنگوں کے مطابق چل رہا ہو۔ یوں برطانیہ کی تعریفیں کرنا ایک ڈھول ہے۔!