
جب بھی دنیا کی عظیم جاسوس خواتین کی تاریخ لکھی جائے گی شہزادی نور النساء عنایت خان کا نام ضرور شامل ہوگا، نور النساء جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے کہ ایک مسلم گھرانے سے تعلق رکھتی تھی، وہ یکم جنوری 1914ء کو موسکو روس میں پیدا ہوئی، اس کا تعلق ٹیپو سلطان کے خاندان سے تھا، شہزادی نور النساء کے والد عنایت خان اپنے وقت کے صوفی سمجھے جاتے تھے، وہ روحانی طریقے سے مختلف امراض کا علاج کرنے کی وجہ سے دور دراز کے ممالک میں بھی شہرت کے حامل تھے، ایک مرتبہ روس کے شاہی خاندان کے بعض افراد بیمار ہوئے تو راسپوٹین نے انہیں روس آنے کی دعوت دی، صوفی عنایت خان نے جو بر صغیر میں پیر عنایت خان کے نام سے جانے جاتے تھے، زندگی کے سفر میں ایک امریکی مسلمان خاتون بیگم شاردا کا انتخاب کیا تھا، شہزادی نور النساء ان کی بیٹی تھی، انگریز کا زمانہ تھا، جب انگریز کی سلطنت تیزی سے پھیل رہی تھی.
بر صغیر میں انگریزوں اور مسلمانوں کے درمیان 1857ء کی جنگ آزادی ختم ہوئے نصف صدی سے زائد گزر جانے کے با وجود رنجش اور چپقلش کا سلسلہ جاری تھا، ایک طرف انگریزوں کی غلامی سے نجات حاصل کرنے کے لیے مجاہدین اور صوفی مل کر سلطنتِ برطانیہ کا مقابلہ کر رہے تھے، دوسری طرف اسی خطۂ زمین سے تعلق رکھنے والے اور قابلِ احترام سمجھے جانے والے مذہبی خاندان کے افراد انگریزوں کے دربار میں جوتیاں اتار کر سر جھکائے فرش پر آلتی پالتی مار کر بیٹھنے میں فخر محسوس کر رہے تھے.
پیر عنایت خان کا تعلق ٹیپو سلطان کے خاندان سے ضرور تھا لیکن مزاج اور ترجیحات کے اعتبار سے ان کی سوچ اور رائے مختلف تھی، وہ ہر حاکم کی خدمت اپنا اولین فرض سمجھتے تھے، اس لیے جب راسپوٹین نے انہیں بلایا تو وہ شاہی خاندان کا علاج کرنے کے لیے روس چلے گئے، وہ 1917ء میں روس پہنچے، ان کی اہلیہ اپنے شوہر کی مصروفیات کو محسوس کر کے پیرس چلی گئیں، وہاں وہ بچوں کے لیے کہانیاں لکھ کر گزر اوقات کرتی تھیں جبکہ نور النساء جوان ہونے پر لندن میں سکونت پذیر ہوگئی، اسے وہاں ائیر فورس میں ملازمت مل گئی، جاسوسی کے شعبے میں جن خواتین نے باقاعدہ تربیت حاصل کی تھی ان میں نور النساء کا نام بہت نمایاں ہے، سلطنتِ برطانیہ سے وفاداری اس کا ایمان تھا، اسے ایک خاتون کی حیثیت سے حساس نوعیت کی معلومات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ خود کو متوقع مشکلات سے بچانے کے لیے مختلف انداز میں تربیت دی گئی.
1943ء میں وہ ایک نائب جاسوس بن چکی تھی، برطانیہ نے اسے جاسوسی کے لیے فرانس میں نہایت خفیہ طریقے سے داخل کیا، وہ وہاں ایک حساس ادارے میں وائرلیس آپریٹر کی نوکری حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی، لندن سے ملنے والی ہدایات کے تحت کبھی فرانسیسی تو کبھی جرمن جرنیلوں کی جاسوسی کرتی، اس نے نہایت محنت سے ایک ایسا کمیونیکیشن سسٹم تیار کر لیا تھا جس کے باعث لندن میں موجود اس کے باس لمحہ بہ لمحہ معلومات سے با خبر رہتے، وہ جانتی تھی کہ جنگ یا امن کے ایام میں پکڑے جانے والے جاسوس کا کیا حشر ہوتا ہے، بہت سے واقعات وہ خود بھی دیکھ چکی تھی، جب فرانس اور جرمنی میں برطانوی باشندوں کو گرفتار کر کے گولی مار دی گئی، ان پر شبہ تھا کہ وہ برطانیہ کے لیے جاسوسی کر رہے ہیں، شہزادی نور النساء کو اس کے ایک اہم ترین ساتھی نے ڈبل ایجنٹ بن کر گرفتار کرا دیا، اسے گرفتار کرنے کے بعد جرمنی کو اندازہ ہوا کہ انہیں اس قدر بھاری نقصان پہنچانے والی شخصیت ایک خاتون جاسوس ہے.
نور النساء کے خلاف جرمنی میں نومبر 1943ء کو مقدمہ شروع ہوا، اس پر بد ترین تشدد کیا گیا، لالچ دیا گیا لیکن اس کی زبان بند رہی، آخر کار 13 ستمبر 1944ء میں اسے فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑا کردیا گیا، جان بچانے کا اس کے پاس آخری موقع تھا، وہ جانتی تھی کہ اس کے ساتھ ڈرامہ نہیں کیا جارہا اور اگلے چند لمحوں میں اس کا جسم بے جان ہوجائے گا، انسان ہونے کے ناطے موت کا خوف چند لمحوں کے لیے اسے متزلزل کر گیا، اس سے آخری مرتبہ پوچھا گیا کہ کیا تم اقرارِ جرم کرتی ہو اور تعاون کے لیے تیار ہو؟ نور النساء نے دھڑکتے ہوئے دل اور رکتی ہوئی سانسوں کے درمیان ایک جرمن انٹیلی جینس افسر کی طرف دیکھا اور اسے اشارے سے قریب آنے کو کہا، جب وہ قریب آگیا تو اس نے سجھ نہ آنے والے لہجے میں کوئی بات کی، وہ جرمن سمجھا کہ شاید موت کے خوف نے اس کو خوفزدہ کردیا ہے، اس نے کہا ہم تمہیں آزاد کردیں گے کیا تم ہم سے تعاون کے لیے تیار ہو؟
نور النساء نے اس کی طرف غور سے دیکھا اور مضبوط لہجے میں کہا: ” Not in my life ”
اس جرمن افسر نے چند قدم پر کھڑے ہو کر فائرنگ سکواڈ کی جانب دیکھا، ایک اشارہ ہوا، گولیوں کی تڑتڑاہٹ اور ایک چیخ فضاء میں گونجی، یہ نور النساء کی زندگی کا آخری دن تھا.
1949ء میں حکومت برطانیہ نے نور النساء کو جارج کراس George Cross ایوارڈ سے نوازا، اس کی زندگی پر کئی کتابیں بھی لکھی گئیں، آخری کتاب 2006ء میں شائع ہوئی جس کا نام سپائی پرنسس Spy Princess ہے.
بھیا کسی خفیہ ایجنسی میں بھرتی تو نہیں ہوگئے ۔
اچھا مضمون ہے۔
نظامی صاحب دیر سے پہچانا.. :boss:
پسندیدگی کا شکریہ..
شخصیت تو آپ نے بہت شاندار چنی ہے، ویسے اس موضوع پر اردو وکیپیڈيا پر بھی کسی نے ایک مقالہ لکھا تھا، امید ہے کہ یہاں پیش کردہ معلومات سے اسے بھی نوازیں گے۔
http://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D9%84%D9%86%D8%B3%D8%A7%D8%A1
.-= ابوشامل کے بلاگ کی آخری تحریر ہے blog ..نامق کمال =-.
شکریہ ابو شامل صاحب.. اردو وکیپیڈیا والا مقالہ اس سے تو کافی بہتر لگ رہا ہے.. میں اسے بھلا کیا نوازوں گا..
بہت خوب۔ پر جاسوسی ایک لعنت ہے۔ اس سے بچنا چاہئے۔