
امریکہ جو دنیا میں سپر پاور بن کر حکمرانی کر رہا ہے کبھی غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا، امریکہ کو ایک آزاد اور عظیم ملک بنانے میں مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے، ان عورتوں نے جاسوس کے روپ میں ایسے کارنامے انجام دیے ہیں جو آج بھی تاریخ میں زندہ جاوید نظر آتے ہیں، ان ہی عورتوں میں ایک عظیم جاسوس لیڈیا دارہ (Lydia Barrington Darrah) (اس نام کے ہجے Darragh اور Darrach بھی کیے جاتے ہیں) تھی جو 1729ء میں آئرلینڈ کے شہر ڈبلن میں پیدا ہوئی، لیڈیا نے 2 نومبر 1753ء میں ایک فیملی ٹیوٹر ولیم دارہ (William Darragh وفات 8 جون 1783ء) سے شادی کی اور امریکہ جاکر فلاڈیلفیا میں آباد ہوگئی، وہ مڈوائف تھی، اس کے شوہر کی تنخواہ کم تھی، لیڈیا کے نو بچے تھے جن میں سے پانچ بچے (Charles Darrah, Ann Darrah, John Darrah, William Darrah, and Susannah Darrah) زندہ رہے، اس کا بڑا بیٹا چارلس فوج میں ملازم تھا جس کے ذریعے لیڈیا دارہ اہم معلومات امریکی جرنیلوں تک پہنچایا کرتی تھی.
امریکی انقلاب کے دنوں میں جارج واشنگٹن نے جنگی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ مؤثر جاسوسی نظام سے مدد لیتے ہوئے زبردست کامیابی حاصل کی، اس نے کانگریس سے خفیہ فنڈ منظور کرائے تاکہ جاسوسی کرنے والی خواتین اور مردوں کو معاوضہ دیا جاسکے کیونکہ معاشی مسائل بعض اوقات بہتر خدمات انجام دینے کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہوتے ہیں.
لیڈیا دارہ نے جنرل جارج واشنگٹن کی فوج میں خدمات انجام دیں، جن کے باعث امریکہ کی آزادی کی راہ ہموار ہوئی، جب برطانیہ نے امریکہ کی ریاست فلاڈیلفیا پر قبضہ کیا تو لیڈیا نے بہترین خدمات انجام دیں، امریکہ پر مصیبت کے ایام میں وہ سوچ رہی تھی کہ یہ سرزمین تو وہی ہے لیکن آزادی کہاں ہے؟ غلامی کے احساس نے اسے عجیب الجھن میں مبتلا کردیا تھا، اس نے غلامی سے نجات حاصل کرنے کے لیے مؤثر لائحہ عمل تیار کیا، برطانوی فوج فلاڈیلفیا میں داخل ہوئی تو تمام اچھے گھروں پر قبضہ کرنا شروع کردیا تاکہ ان کو اپنے خصوصی مقاصد کے لیے استعمال کر سکے، برطانوی فوج کے جنرل ہو (General William Howe) نے فلاڈیلفیا میں موجود فوجی افسر جان لیڈ والڈر کے گھر پر قبضہ کر کے اسے اپنا ہیڈ کواٹر بنا لیا، لیڈیا کا گھر اتفاق سے اس کے گھر کے سامنے تھا، جنرل ہو کو لیڈیا کا گھر بھی پسند آگیا، کیونکہ اس کا گھر محلِ وقوع کے اعتبار سے خوبصورت اور اہم جگہ پر واقع تھا، لیڈیا ایک ذہین اور خوش اخلاق عورت تھی، جس کے برطانوی فوجی افسروں سے خوش گوار مراسم تھے، جس کے باعث انہیں اس بات کا احساس نہ ہوا کہ وہ امریکی جاسوس ہے، یہی وجہ تھی کہ برطانوی جنرل ہو نے لیڈیا کے گھر کو ایک مرتبہ انتہائی اہم فوجی اجلاس منعقد کرنے کے لیے منتخب کرلیا، اس سے قبل بھی بعض فوجی افسروں کا معمول تھا کہ وہ خفیہ اجلاس کے بہانے لیڈیا کے گھر آجاتے اور گھنٹوں آرام کر کے چلے جاتے، جس کے باعث لیڈیا کے گھر والوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا، لیکن اس روز خصوصی طور پر جنرل ہو نے لیڈیا کو احکامات جاری کئے کہ جب وہ اجلاس کے لیے یہاں آئیں تو گھر والوں کو باہر نکال دیا جائے، تاہم بعد میں لیڈیا اور اس کے گھر والوں پر اعتماد کرتے ہوئے اس نے انہیں گھر میں رہنے کی اجازت دے دی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہیں کہا گیا کہ وہ اجلاس کے دوران اس طرح گھر میں رہیں گے کہ برطانوی فوجی جرنیلوں کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے، لیڈیا نے جنرل ہو سے ان معاملات پر اتفاق کر لیا، لیڈیا برطانوی فوجی افسروں کے ساتھ انتہائی شائستگی اور مہمان نوازی سے پیش آتی تھی، اس وقت لیڈیا کی عمر 48 سال تھی، لیکن اس نے چہرے سے اپنے دکھ کا اظہار نہیں کیا، یہی وجہ تھی کہ برطانوی فوجی افسروں کو کبھی شک نہ گزرا کہ وہ ان کی جاسوسی کر رہی ہے، اس کے حسنِ سلوک کے باعث برطانوی سپاہی اس کو اپنا ہمدرد سمجھنے لگے، لیڈیا نے بیمار اور دکھی سپاہیوں کی بھرپور خدمت کی، وہ ان کے لیے کھانا اور ادویات لے کر جاتی تھی، وہ ہمیشہ کہتی تھی کہ آپ ہمارے دوست اور مہمان ہیں آپ کی خدمت ہمارا فرض ہے.
2 دسمبر 1777ء کو میجر جان اینڈر جو برطانوی فوج کا اہم افسر تھا لیڈیا کے گھر آیا اور اس سے ملاقات کے دوران کہا لیڈیا دارہ! آج ہمیں تمہارے گھر کی بہت ضرورت ہے، کوئی انتہائی اہم اجلاس منعقد کرنا ہے، ازراہ کرم گھر کے اس حصے کو چھوڑ کر دوسرے کمروں میں منتقل ہوجائیں تاکہ اجلاس میں کسی قسم کی مداخلت نہ ہوسکے، لیڈیا نے میجر جان اینڈر سے اتفاق کر لیا، بعد ازاں اس نے گھر والوں کو گھر کے دوسرے کمروں میں منتقل کرادیا، تاہم لیڈیا نے اس اجلاس کی کاروائی سننے کا فیصلہ کر لیا تاکہ جنرل جارج واشنگٹن کو برطانوی فوج کے اقدامات سے آگاہ کر سکے، اس رات 8 بجے برطانوی فوجوں کے افسروں کی لیڈیا کے گھر آمد شروع ہوگئی، لیڈیا دارہ نے بڑے تپاک اور گرم جوشی سے ان کا استقبال کیا.
اس نے ان کے کوٹ اور ہیٹ سے یہ اندازہ کر لیا تھا کہ اجلاس میں شریک ہونے والے افسران اعلی ہیں اور یہ اجلاس انتہائی اہم نوعیت کا ہے، تاہم لیڈیا دارہ نے اپنے رویے سے یہ یقین دلایا تھا کہ اجلاس میں کسی قسم کی مشکلات یا مداخلت نہیں کی جائے گی، جس کے باعث برطانوی فوجی افسران نے آخری فوجی افسر آنے کے بعد کمرے کا دروازہ بند کر لیا جس کے بعد لیڈیا دارہ نے گھر کے سامنے والا دروازہ بھی بند کردیا، برطانوی فوجی افسر جان اینڈر نے لیڈیا سے کہا کہ دوران اجلاس بیڈ روم سے باہر نہ نکلنا، جب اجلاس ختم ہوگا تو خود آگاہ کردیا جائے گا، لیڈیا یقین دہانی کرانے کے بعد اپنے بیڈ روم میں آگئی، جہاں اس کا شوہر گہری نیند سو رہا تھا، لیڈیا کو برطانوی فوجی افسروں کی آمد اچھی نہ لگتی تھی لیکن اسے تجسس تھا کہ آج رات کیا اہم فیصلے ہونے ہیں؟ اجلاس شروع ہونے کے بعد لیڈیا پنجوں کے بل چلتی ہوئی آئی اور اندھیرے میں ہی اس کمرے کی دیوار تک پہنچ گئی جہاں اجلاس ہو رہا تھا، اس نے دیوار کے سوراخ سے دیکھا کہ تمام فوجی افسر سرگوشیوں میں دبے ہوئے لہجے کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے، جس سے لیڈیا کو اندازہ ہوگیا کہ امریکہ کے بارے میں اہم موضوعات پر تبادلہ خیال ہورہا ہے، اسی دوران ایک برطانوی فوجی افسر نے کہا کہ جارج واشنگٹن کی فوج تیاری کی حالت میں نہیں ہے، اس نے برطانوی فوج کی فوجی تیاریوں اور طاقت کے بارے میں بریفنگ دی.
اس خفیہ اجلاس میں ایک حکم نامہ تیار ہوا جس میں کہا گیا کہ 4 دسمبر کی صبح فوج فلاڈیلفیا سے روانہ ہوکر واشنگٹن پر حملہ کردے گی، برطانوی فوج کو یقین تھا کہ وہ واشنگٹن کی فوج کو غفلت کی حالت میں تباہ وبرباد کردیں گے کیونکہ وہ سوچ رہے تھے کہ واشنگٹن کی فوج بے سروسامانی اور مشکلات کا شکار ہے جب کہ فلاڈیلفیا پر قبضہ کرنے کے بعد برطانوی فوج نے کئی روز جشن منایا جس کے باعث جارج واشنگٹن کو اپنی پوزیشن بہتر بنانے کا موقع مل گیا، انہی دنوں لیڈیا نے جنرل جارج واشنگٹن کو اہم معلومات دینے کا سلسلہ شروع کیا، وہ برطانوی سپاہیوں کے پاس جاتی جو زخمی ہوتے اور ان کی خدمت کرتی جبکہ بعض سپاہیوں کو کھانا اور دیگر اشیاء فراہم کرتی، اس خدمت اور دوستی کے ماحول میں برطانوی سپاہیوں نے اندر کے راز دینا شروع کردیے جو لیڈیا جارج واشنگٹن تک پہنچانے لگی، لیڈیا کا ایک بیٹا فوج میں تھا جس کو وہ اہم معلومات فراہم کرتی تھی، برطانوی فوج نے فلاڈیلفیا پر قبضہ کیا تو جنرل واشنگٹن کے سپاہیوں کے پاس ساز وسامان کی کمی تھی، ان کے پاس خوراک اور کپڑے بھی انتہائی قلیل تھے جس کے باعث وہ لڑنے کے قابل نہ تھے، سردیوں کا موسم تھا، سپاہیوں کے پاس گرم کپڑے نہ ہونے کے باعث جنرل واشنگٹن نے ان سے کہا کہ وہ آرام کریں، اس کے برعکس برطانوی فوجی پرآسائش زندگی گزار رہے تھے، آہستہ آہستہ برطانوی فوجی افسروں نے فلاڈیلفیا میں عیاشی شروع کردی کیونکہ وہ جانتے تھے کہ واشنگٹن کے سپاہیوں کی صورتحال اتنی خراب ہے کہ وہ جنگ کرنے کے قابل نہیں ہیں، لیڈیا دارہ تمام حالات سے واشنگٹن کو باخبر کرتی رہی، جنرل واشنگٹن نے اسی دوران برطانوی فوج کی حرکات وسکنات پر گہری نظر رکھی، تاکہ اس دوران برطانوی فوج کی غفلت اور عیاشی کا فائدہ اٹھا کر ان سے مقابلے کے لیے اپنے سپاہیوں کو تیار کر سکے.
لیڈیا دارہ کے گھر 2 دسمبر 1777ء کو ہونے والے اجلاس میں واشنگٹن کی فوج پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو ضروری تھا کہ لیڈیا یہ اطلاع فوراً جنرل جارج واشنگٹن کو فراہم کرے، اس کا دماغ بہت تیزی سے کام کر رہا تھا کہ کس طرح فوری طور پر اطلاع دی جائے؟ اس سوچ میں وہ اپنے بیڈ روم میں واپس آگئی، ابھی کچھ دیر گزری تھی کہ برطانوی فوجی افسر نے دروازے پر دستک دی، لیڈیا اس صورتحال سے نبٹنے کے لیے تیار تھی، وہ انتہائی خود اعتمادی کے ساتھ اٹھی اور اس طرح دروازہ کھولا کہ وہ گہری نیند میں ہے، برطانوی فوجی افسر میجر اینڈر دستک دینے کے بعد معذرت کی اور کہا کہ اجلاس ختم ہوچکا ہے، کمرے میں موم بتیاں بجھا دو، ہم جارہے ہیں، لیڈیا اس کمرے میں گئی جہاں اجلاس ہو رہا تھا، اس نے آتش دان میں دہکتے ہوئے کوئلے کو بجھانا شروع کیا تاکہ کسی طرح وقت گزرے اور صبح ہوجائے، وہ ذہنی اضطراب میں مبتلا تھی کیونکہ وہ اہم اطلاع جنرل واشنگٹن تک پہنچانا چاہتی تھی، لیڈیا نے صبح ہونے پر اپنے شوہر دارہ سے کہا کہ مجھے فوراً فرینکفرٹ جانا ہے تاکہ کچھ آٹا لے آؤں، دارہ نے کہا: آٹا ملازم لے آئے گا.. لیڈیا نے کہا: نہیں میں خود جاؤں گی، اس کا اندازِ گفتگو دیکھ کر دارہ خاموش ہوگیا کیونکہ لیڈیا ہر قیمت پر خود جانا چاہتی تھی، آٹے کی مِل لیڈیا کے گھر سے 5 میل دور تھی اور عموماً عورتیں پیدل جاکر آٹا لاتی تھیں، فلاڈیلفیا پر قبضہ ہونے کے بعد جنگی صورتحال تھی، جس کے باعث کہیں جانے کے لیے پاس لینا پڑتا تھا، لیڈیا پاس لینے کے لیے جنرل ہو کے ہیڈ کوارٹر آئی، اسے فوج کے اعلی افسران کے ساتھ خوشگوار تعلقات کے باعث پاس مل گیا، راستے میں بعض مقامات پر اسے برطانوی سپاہیوں نے روکا، لیکن لیڈیا نے آٹے کے خالی بیگ دکھائے تو اسے آگے جانے کی اجات مل گئی، ان دنوں آٹا لینے کے لیے خالی بیگ ساتھ لے جانے پڑتے تھے، لیڈیا نے آٹے کی مل پر جاکر خالی بیگ دئے کہ ان میں آٹا ڈالو میں ابھی ایک دوست سے مل کر آتی ہوں.
لیڈیا وہاں سے اپنی منزل کی جانب روانہ ہوئی، اسے وائٹ مارش جانا تھا، جہاں جارج واشنگٹن کی فوج ٹہری ہوئی تھی، شدید سردی کا موسم تھا، برفباری اور ٹھنڈی ہواؤں نے ماحول کو مزید سرد بنا دیا تھا، لیڈیا کو راستے میں ایک امریکی سپاہی نظر آیا جو برطانوی فوج کی نقل وحرکت کا جائزہ لے رہا تھا، اس نے حیرت سے پوچھا: لیڈیا! تم یہاں کی کر رہی ہو؟ جس پر لیڈیا نے تمام صورتحال کی وضاحت کی کہ میں اس اہم اطلاع کے ساتھ جنرل واشنگٹن کو ملنا چاہتی ہوں کہ برطانوی فوج 13 توپوں اور چھ ہزار فوجیوں کے ساتھ اس پر حملہ کرنا چاہتی ہے، لیفٹیننٹ کرنل تھامس گریٹ لیڈیا کی بات سن کر حیران وپریشان ہوگیا، اس نے کہا میرے ساتھ جنرل واشنگٹن سے ملنا پسند کروگی؟ جس پر لیڈیا نے جواب دیا ”نہیں” یہ اطلاع تم پہنچا دو کیونکہ میرا وہاں جانا مناسب نہیں ہے میں چاہتی ہو کہ کسی کو بھی معلوم نہ ہو کہ یہ اطلاع کس نے دی ہے؟ کیونکہ اگر برطانوی فوج کو تمام صورتحال کا علم ہوگیا تو مجھے اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی.
کرنل تھامس نے لیڈیا کو کچھ کھانے پینے کا سامان دیا اور گھوڑے پر سوار کر کے فلاڈیلفیا کے قریب چھوڑ دیا جہاں سے وہ واپس آٹے کی مل پر گئی اور آٹا لے کر گھر روانہ ہوگئی، اس صورتحال کے بعد لیڈیا کافی تھک چکی تھی، اس نے گھر کی کھڑکی میں سے دیکھا کہ برطانوی فوج روانگی کے لیے تیار ہے، جنرل ہو کو یقین تھا کہ انہیں فتح حاصل ہوگی، لیکن جب روانہ ہوئے تو جنرل ہو کو کوئی ایسی جگہ نظر نہ آئی جہاں امریکی فوج غفلت میں ہوتی، جس کے باعث برطانوی فوج کو حملہ کئے بغیر ہی واپس آنا پڑا، جنرل واشنگٹن اس کا پیچھا کرنا چاہتا تھا لیکن اس کے سپاہیوں کی صورتحال ایسی نہ تھی، کچھ دنوں کے بعد میجر جان اینڈر چند فوجیوں کے ہمراہ لیڈیا کے گھر آیا اور پوچھا کیا گزشتہ دنوں تمہارے خاندان کا کوئی فرد فوجی افسروں سے ملا ہے؟ لیڈیا نے کہا: 2 دسمبر کی رات آپ کے حکم پر گھر والے جلدی سوگئے تھے، میجر جان اینڈر نے کہا میں جانتا ہوں کہ سب سو رہے تھے، لیڈیا نے کہا پھر آپ یہ سب کچھ کیوں پوچھ رہے ہیں؟ میجر جان اینڈر نے کہا کسی نے جنرل واشنگٹن کو ہمارے منصوبے کی اطلاع دے دی کیونکہ امریکی فوجی ہر جگہ مقابلے کے لیے تیار تھے اس طرح برطانوی فوج کے تین دن ضائع ہوئے، میجر اینڈر نے کہا کہ اگر انسانوں نے نہیں تو لیڈیا کے گھر کی دیواروں نے کچھ نہ کچھ سنا ہوگا.
لیڈیا کی جنرل واشنگٹن کو جاسوسی کے باعث امریکہ کی قسمت بدل گئی کیونکہ اگر برطانوی فوج حملہ کر دیتی تو غلامی کی زندگی مزید طویل ہوجاتی، اس واقعہ کے پچاس سال گزرنے کے بعد لیڈیا کی بیٹی نے اپنی والدہ کے عظیم کارنامے سے پردہ اٹھایا، لیڈیا نے جاسوسی کو بطور پیشہ نہیں اپنایا، اس نے حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہوکر جاسوسی کی، وہ اگر جاسوسی کو بطور پیشہ اپناتی تو بہت کامیابیاں حاصل کرتی، لیڈیا نے امریکی انقلاب میں عظیم کارنامہ انجام دیا، اس نے 28 دسمبر 1789ء میں وفات پائی.
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
بہت شکریہ مکی بھائی یہ معلومات شئیر کرنے غلامی میں انسانوں کے جوہر کھل کر سامنے آتے ہیں اور فضولیات سے عمومی طور پر انسان کنارہ کش ہوجاتے ہیں۔
.-= موجو کے بلاگ کی آخری تحریر ہے blog ..وہ کیا گردوں تھا، تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا =-.