برجستگی کلام

مولانا ظفر علی خان اپنے دور کے قادر الکلام شاعر تھے، ایک محفل میں مولانا ظفر علی خان ایک کرسی پر بیٹھے تھے اور ان کی ساتھ والی کرسی پر مولانا ابو الکلام آزاد تشریف فرما تھے، مولانا آزاد نے منتظمین کو پکار کر پینے کے لیے پانی طلب کیا، فوراً ہی ایک سفید ریش بزرگ نے کونے میں دھری ایک میز سے پانی کا گلاس اٹھایا اور بڑی عقیدت سے مولانا آزاد کی خدمت میں پیش کردیا، مولانا آزاد نے پانی کا گلاس ہاتھ میں لے کر برجستہ کہا:

لے کر خود پیرمغاں ساغر ومینا آیا

یہ سن کر مولانا ظفر علی خان نے جن کا برجستگی کلام کے لیے ساری اردو دنیا میں جواب نہ تھا فوراً گرہ لگائی اور فرمایا:

مے کشور! شرم تمہیں پھر بھی نہ پینا آیا

یہ سننا تھا کہ سارے مجمع نے واہ واہ کے نعرے بلند کیے.

  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Live
  • Slashdot
  • Technorati
  • Twitter
  • PDF
  • StumbleUpon
 ٹیگ: , , , , , , , ,
 banner ad


ایک تبصرہ برائے “برجستگی کلام”

  1. بہت ہی اعلی ۔۔۔۔ مولانا آزاد جیسی شخصیت پر جملہ چست کرنا مولانا ظفر علی خاں ہی کا خاصہ ہو سکتا ہے۔
    .-= ابوشامل کے بلاگ کی آخری تحریر ہے blog ..نامق کمال =-.

تبصرہ کریں

Englishاردو

Englishاردو