
مشہور روبوٹک انجینئر دینئل ایچ ولسن (Daniel H. Wilson) کہتے ہیں: ”انسان ایک مسکین اور قابلِ رحم جاندار ہے… ہمارے تیز ناخن نہیں ہیں… ہمارے دانت بہت چھوٹے ہیں… ہمارا جسم ایک بہت نازک اور حساس جلد سے ڈھکا ہوا ہے… ہم میں سے اکثر تو ننگے پاؤں باہر نہیں چل سکتے”.
اگر ماضی سے حال کا مقابلہ کیا جائے تو انسان نے عسکری میدان میں بہت ترقی کی ہے اور تلوار سے مشین گن تک کا سفر نسبتاً کافی جلدی طے کیا ہے.. تاہم ایک مسئلہ ہمیشہ سے ترقی یافتہ ملکوں کے عسکری اداروں کے لیے پریشان کن رہا ہے اور وہ ہے جنگوں میں ہلاک یا زخمی ہونے والے فوجی.. اس مسئلہ کے حل کے لیے امریکی وزارتِ دفاع کا تحقیقی ادارہ ڈارپا (DARPA) نے CT2WS نامی ایک پراجیکٹ شروع کر رکھا ہے جس کا مقصد فوجیوں کو بقاء کے مزید وسائل فراہم کرنا، خطرے سے بروقت آگاہ کرنا، اور فوجی کے دماغ کے Prefrontal Cortex نامی حصے سے تجاوز کرتے ہوئے ایک ہائی کوالٹی تصویر لوڈ کرنا ہے..

تاہم صرف یہی ایک پراجیکٹ نہیں ہے، جیسا کہ اوپر کی تصویر سے واضح ہے فوجیوں کو Exoskeleton نامی ایک خارجی ڈھانچہ فراہم کیا جائے گا، یہ ایک مشینی سوٹ ہے جو بلیٹ پروف ہوگا، یہ سوٹ فوجی کو دگنی جسمانی طاقت دے گا تاکہ فوجی ہر وہ مشکل کام کر سکیں جس میں بہت زیادہ جسمانی طاقت کی ضرورت ہوتی ہے، یہ سوٹ فوجی کو درکار مناسب سپورٹ فراہم کرے گا جس سے فوجی عام حالت سے دس گنا وزنی چیز اٹھا سکے گا، نہ صرف یہ بلکہ یہ سوٹ پہن کر فوجی کافی پھرتیلا ہوجائے گا اور تیزی سے حرکت کرنے لگے گا.. اس سوٹ میں سکینر نصب ہوں گے جو جنگ کے علاقے کو سکین کر کے فوجی کو دشمن کے مقام کا ٹھیک ٹھیک پتہ بتائیں گے.. اس سوٹ کو پہن کر فوجی مزید اسلحہ بھی ساتھ رکھ سکے گا کیونکہ اس سوٹ کی وجہ سے اسے ان کا وزن محسوس نہیں ہوگا..

ایک اور چیز جو ڈارپا ممکن کرنا چاہتی ہے وہ ہے فوجی کو اڑنے کی صلاحیت فراہم کرنا چاہے مختصر مسافت ہی کی کیوں نہ ہو تاکہ فوجی دشمن کے بچھائے جال سے بچ کر دور جاسکے..

یہ سمجھنا قطعی مشکل نہیں ہے کہ ڈارپا اور اس جیسے دیگر ترقی یافتہ ممالک کے اداروں کا مقصد کیا ہے، وہ ایک ایسا فوجی تخلیق کرنا چاہتے ہیں جو ناقابل تسخیر ہو اور ہر طرح سے برتر ہو جیسا کہ ذیل کی تصاویر میں دکھایا گیا ہے:



اگلے دس سالوں میں امریکی فوج کو ایسا اسلحہ مل جانے کا مطلب یہ ہے کہ جنگ اب روایتی نہیں رہنے والی ہے…
بہت خوب۔ چلو میں آج ہی امریکی سی آئی اے سے بات کرکے اسکے لئے مستقبل کی جدید ’’خطرہ آور‘‘ دشمن فوج پیدا کرنے والے پراجیکٹ پر کام شروع کرتا ہوں!
ظاہر ہے جدید اسلحہ ساز ٹیکنالوجی کے بعد مد مقابل دشمن بھی جدید اور غیر روائیتی ہونا چاہئے نا۔۔۔۔
ایسی ٹیکنالوجی کا کیا فائدہ جو میدان جنگ میں کام نہ آسکے
عارف آپ اتنے بھولے تو نہیں لگتے۔۔ :wacko:
اس آرمی کا کیا نام ہو گا؟؟
کالا پیلا پانی
بہت عمدہ پوسٹ مکی بھائی!
اور جہاں تک موضوع کا تعلق ہے، اس میںسے ایگزو سکیلیٹن والی ٹیکنو لوجی کے علاوہ بقیہ چیزیں کسی حد تک عراق اور افغانستان میں ان کے استعمال میں ہیں مگر پھر بھی یہ لوگ جیت نہیں پا رہے، حیرت کی بات ہے۔
اب ایگزو سکیلیٹن بھی پہن لیں تو کیا کر لیں گے۔۔۔
’’ مگر پھر بھی یہ لوگ جیت نہیں پا رہے، حیرت کی بات ہے۔‘‘
ہاہاہا! جناب آپکا کیا خیال ہے یہ جنگ ’’جیتنے‘‘ کیلئے لڑی جا رہی ہے؟
جنگ میں فیصلہ کن بات صرف “لڑائی کا جذبہ“ یا will to fight ہی ہوتی ہے ۔ آلات وقتی فتح دلا سکتے ہیں لیکن ان کا بنیادی مقصد دشمن کو ختم کرنا نہیںبلکہ اس کے لڑائی کے ارادے کو ختم کرنا ہوتا ہے۔ اور یہ کام اس طرح کی ایجادات بہت اچھے طریقے سے کرتی ہیں۔
مگر جو مقاصد وہ جنگ کے زریعے حاصل کرنا چاہتے ہیں، اس میں کامیاب نہیں ہو رہے، وہ پھنس چکے ہیں۔۔۔