
آپ صبح نیند سے بیدار ہوتے ہیں.. مگر آپ کبھی وقت نہیں جان سکیں گے کیونکہ تمام میکینکل گھڑیاں اور وہ بھی جو بیٹری یا بجلی سے چلتی ہیں سائنسی بنیادوں پر استوار کی گئی ہیں جس سے وہ چلتی ہیں.. چنانچہ سارا دن وقت آپ کے لیے ایک پہلی ہی بنا رہے گا.
اپنے بستر سے اٹھتے ہیں.. اگر کھڑکی بند ہے تو آپ گھپ اندھیرے میں ہوں گے کیونکہ بجلی کے بلب ایک سائنسی اختراع ہیں جنہیں تھامس ایڈیسن نے ایجاد کیا تھا.. پیٹرول، ڈیزل یا مٹی کے تیل سے کسی قسم کے فانوس کے استعمال کے بارے میں سوچھیں بھی مت کیونکہ ایندھن کی یہ اقسام علمی تحقیق کا نتیجہ ہیں..
پھر کیا؟ کیا آپ اپنے دانت برش کرنا چاہتے ہیں؟ کیا آپ بھول گئے ہیں کہ ٹوٹھ پیسٹ ایسے بہت سارے کیمیائی عناصر کا مرکب ہے جنہیں اگر سائنسدان دریافت نہ کرتے تو ہم ان کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے تھے؟ آپ کو صرف پانی سے اپنے دانت صاف کرنے ہوں گے.. قضائے حاجت کے لیے بھی آپ کو کسی درخت یا جھاڑیوں کی آڑ لینی ہوگی کیونکہ آپ کے غسل خانے میں موجود ہر چیز علمی تحقیق کا نتیجہ ہے.
ہم امید کرتے ہیں کہ آپ کی نظر اچھی ہوگی اور آپ کو نظر کی عینک کی ضرورت نہیں ہوگی بصورتِ دیگر آپ کو اس سے بھی محروم رہنا پڑے گا کیونکہ نظر کی عینک ہمیں علمِ بصریات نے بخشی ہے..
اب کیا آپ کو ناشتہ کرنا ہے؟ تو پھر لکڑیوں کا انتظام کیجیے کیونکہ گیس اور بجلی وہ مصیبتیں ہیں جو ہمیں پاگل سائنسدانوں نے دی ہیں..
ناشتہ کے بعد آپ کام پر جانے کا فیصلہ کرتے ہیں… کس چیز پر سفر کرنا پسند فرمائیں گے؟ گدھا، گھوڑا یا خچر؟ آپ کو یاد دلانے کی ضرورت نہیں کہ سفر کے تمام ذرائع بشمول گاڑیاں، بسیں، جہاز، میٹرو وغیرہ علمی ترقی کا شاخسانہ ہیں جنہیں انجینئر نامی ناہنجار قسم کے لوگوں نے ایجاد کیا ہے.
آپ کام پر پہنچ گئے ہیں؟ یاد رہے کہ کوئی فون، موبائل، فیکس، کمپیوٹر، ٹائپ رائٹر، کیلکولیٹر وغیرہ نہیں ہے.. اپنے کام کی نوعیت کے حساب سے کیا آپ خطوط ارسال کرنے کے لیے کبوتر کا استعمال کریں گے؟
اگر موسم گرم ہوا تو آپ کو سارا دن پسینہ میں شرابور ہونا پڑے گا، کیونکہ کوئی پنکھا یا اے سی نہیں ہے، نتیجتاً سارا دن پسینہ میں شرابور رہنے پر شام کو آپ کے جسم سے ایسی بو آرہی ہوگی کہ الامان الحفیظ..
سارا دن کام کر کے آپ شام کو گھر لوٹتے ہیں.. آپ آرام کرنا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی کچھ تفریح بھی.. ٹی وی، ریڈیو، ویڈیو اور ڈی وی ڈی کو بھول جائیں… تو پھر آپ کے لیے کیا بچا؟ اگر آپ شادی شدہ ہیں تو آپ کے لیے تفریح کا صرف ایک ہی ذریعہ موجود ہوگا جسے انسان ابتدائے آفرنیش سے جانتا آیا ہے… یقیناً حمل کو روکنے کے لیے ایسی کوئی دواء نہیں ہوگی جسے آپ یا آپ کی بیوی استعمال کر سکے کیونکہ یہ ادویات طویل طبی تحقیق کے بعد ہم تک پہنچی ہیں.. چنانچہ آپ کی فیملی میں ہر سال ایک فرد کا اضافہ ہوتا چلا جائے گا.
مبارک ہو
یہ بتانے کی تو قطعی ضرورت نہیں کہ اس ایک دن کے دوران آپ کو لگنے والی کسی قسم کی چوٹ یا بیماری کے خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں کیونکہ نا تو دوائیں ہیں اور نا ہی ہسپتال ہیں.
اس سب کے بعد کیا آپ کا اب بھی یہی خیال ہے کہ ہمیں سائنس یا سائنسی تحقیق کی ضرورت نہیں؟
فیصلہ آپ پر ہے.
ّٰٰMERAY BHAI APNAY SCIENCE KI AHMIYAT KHOOB ACHI TARAH WAZEH KI HAY LAIKIN AAP KYA BAWAR KARANA CHAHTAY HAYEN YEH SARI BAATAIN KHATAM HO CHUKI HAYEN AUR AAJ KAL HAR KOI SCIENCE AUR IS KI AHMIYAT SAY BAKHOOBI WAQIF HAY AUR IS SAY MUNHARIF BHI NAHI.TO MERAY BHAI KUCH NAYA LAIKAR AAO KYOUKAY SCIENCE SAY MOUN PHAIRNAY WALAY AB IS DUNYA MAYEN NAHI RAHAY .
السلام علیکم بھائی سہیل خان۔
اگر آپ کو دلچسپی ہو تو ہم نے سائنس کا ایک عدد فورم شروع کر رکھا ہے۔ امید ہے کہ آپ وہاں آ کر اس میں حصہ ضرور لیں گے۔
http://science.urducoder.com
امید کرتا ہوں کہ اب ضرور آپ کا “کچھ نیا لے کر آنے” والا شکوہ دور ہو گیا ہوگا۔
سہیل خان میرے بہت اچھے دوست ہیں، کیڑے نکالنا ان کی بہت پرانی عادت ہے۔۔
اس موضوع سے مجھے ایک کامک یاد آئی جو کہ آج ہی دیکھی ہے۔
http://abstrusegoose.com/205
اس میں بہت ہی خوب صورت انداز میں بتایا گیا ہے کہ جہالت انسان کی کتنی بڑی دشمن ہے۔
ہم تو ایک گھنٹہ بھی نہیں گزار سکتے ۔ سائنس کے بغیر۔ آپ نے پورا ایک دن گزار کے دکھا دیا۔ واہ واہ۔
.-= nazia کے بلاگ کی آخری تحریر ہے blog ..سویرے جو کل آنکھ میری کھلی =-.
بہت خوب!
واقعی ہم ان سب چیزوں کو for granted لیتے ہیں۔ اور ان کی اور علوم و فنون کی جو قدر ہونی چاہیے وہ نہیں ہو پاتی۔ یقیناً اگر سائنس بیچ میں نہ ہوتی تو آپ کی یہ تحریر بھی ہم تک نہ پہنچ پاتی اور نہ ہی ہمارا تبصرہ آپ تک۔
.-= ًمحمد احمد کے بلاگ کی آخری تحریر ہے blog ..چشمِ خوش خواب، فہمِ رسا چاہیے =-.
سائنس اور فہم میں بہت فرق ہے۔ سائنس اُن اصولوں کا نام ہے جنکو ہماری گلوبل اقتصادی الیٹ نے قبول کیا تاکہ اسکو آگے بیچ کر مزید منافع کمایا جا سکے۔ اب جن سائنسی ایجادات و قوانین کو آگے نہیں آنے دیا گیا، یہ وہی ہیں جنکی فائننشل حیثیت موجودہ سرمایہ دارانہ مارکیٹ میں صفر ہے، مثلاً:
۱۔ زیرو پوائنٹ انرجی، جسکے استعمال کے بعد ڈیزل، پیٹرول جیسے ختم ہو جانے ایندھن کو ’’خریدنے‘‘ کی ضرورت نہیں۔
۲۔ اینٹی گریوٹی ٹیکنالوجی، جسکے حصول کے بعد سڑکیں اور پہئے والی گاڑیاں بنانے کی ضرورت نہیں کیونکہ پھر ہر ’’گاڑی‘‘ بغیر کسی گیس یا جیٹ انجن کے ہوا میں معلق رہتی ہے۔
۳۔ ٹائم ٹریول ٹیکنالوجی، جسکے حصول کے بعد ہر انسان اپنا مستقبل کسی حد تک دیکھ کر اپنی زندگی میں آسانیاں پیدا کر سکتا ہے اور بری چائسز سے بچ سکتا ہے!
اب آپ لوگوں کو جنکا علم صرف اسکول کالج تک محدود ہے، خوب ہنسی آئےگی کیونکہ مندرجہ بالا ٹیکنالوجیز کا تو حقیقت میں کوئی وجود ہی نہیں ہے، وہ اسلئے کہ جو چیز مارکیٹ میں نہیں آئی، اسکا تو واقعی کوئی وجود نہیں ہونا چاہئے؟!
عارف کریم،
سائنس کا انحصار مشاہدے اور تجربے پر ہوتا ہے۔ ہر وہ چیز جو تجربے سے ثابت ہو سائنس ہے۔ اور قدرت اس بات کو نہیں دیکھتی کہ کون تجربہ کر رہا ہے۔ قدرت کے اپنے اصول ہیں جن کی بنیاد پر تجربے کا نتیجہ آتا ہے۔ اگر آپ اپنے نکات کو تجربے کے ذریعے ثابت کرنے کا طریقہ ہی بیان کر دیں تو آپ کی بات میں کچھ وزن پیدا ہوگا۔
آپ نے کچھ نکات اٹھائے ہیں، ان کا اسی ترتیب سے جواب دے رہا ہوں:
۱۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے، کہ جن ممالک میں بیشتر علمی تحقیق ہوتی ہے، وہ نہ صرف خود درآمد ہونے والے ایندھنوں سے جان چھڑانا چاہتے ہیں، بلکہ وہاں کے بیشتر سائنس دانوں کو ماحول کے تحفظ کی بھی فکر ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ وہاں پر جگہ جگہ شمسی پینل کے استعمال کی حوصلہ افزائی کیوں کی جاتی ہے؟
باقی تکنیکی لحاظ سے میں اس نکتے پر فی الحال تبصرہ کرنا مناسب نہیں سمجھتا کیونکہ فی الحال میری معلومات زیرہ پوائنٹ انرجی کے متعلق اتنی نہیں کہ میں کسی بحث میں کوئی تعمیری کردار ادا کر سکوں گا۔
۲۔ کوئی بھی ایسی ٹیکنالوجی، جو کہ زمین کی قوت کے خلاف آپ کو مسلسل ایک اور قوت فراہم کر سکے (جس کے نتیجے میں دونوں قوتوں کا مجموعہ صفر ہو جائے) اینٹی گریوٹی ٹیکنالوجی ہی کہلائے گی۔ اب اس میں اگر آپ ایندھن کی بچت کرنا چاہتے ہیں تو مقناطیسی میدان کا استعمال ایک عمدہ اور قابلِ عمل طریقہ ہے۔ اور یہ طریقہ اس وقت برقی ٹرینوں کو پٹڑی سے کچھ اوپر معلق رکھنے کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے اس تمام رگڑ سے نجات مل جاتی ہے جو گاڑی کے پٹڑی پر “گھسٹنے” کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ نتیجہ توانائی کی اچھی خاصی بچت۔ کیا آپ کو اس تکنیک کا ذرا بھی علم نہیں؟
۳۔ وقت میں سفر۔ یہ اگر ممکن ہو بھی سہی تو بھی ابھی تک انسان کے لیے موجودہ وسائل کے ذریعے ممکن نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی اس پر طبیعیات دان مسلسل کام کرتے رہتے ہیں کیونکہ کائنات کی ساخت کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے اس کے ممکن یا ناممکن ہونے کے بارے میں حتمی نتیجے تک پہنچنا بہت ضروری ہے چاہے استعمال کا ارادہ ہو یا نہیں۔ پھر بھی اگر آپ کا اصرار ہے کہ ایسی ٹیکنالوجی تیار پڑی ہے تو مجھے اس کا ایک کامیاب تجربہ کر کے دکھا دیں۔ یا کم از کم ان اصولوں کی روشنی میں اس کے کام کرنے کے طریقے کی وضاحت ہی کر دیں جو اصول صدیوں سے آزمائے جا رہے ہیں اور کبھی غلط ثابت نہیں ہوئے۔
یا پھر کیا آپ ان صدیوں تک آزمائے ہوئے اصولوں کو بھی نہیں مانتے؟ پتا نہیں پھر آپ ان لوگوں کی باتوں کو کیسے مان لیتے ہیں جن کے پاس اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے نہ تو مناسب حد تک علم ہوتا ہے، نہ کوئی ٹھوس ثبوت، اور نہ ہی کبھی انہوں نے اپنے نظریات کو تجربے کے ذریعے آزمانے کی کوشش کی ہوتی ہے؟
محترم!
سائنسی ایجادات نہ ہوتے تو ہم اپنے ملک کی حفاظت کے لئے پرانی تلواریں تیز کررہے ہوتے یا اپنی غلیلوں کے لئے چھوٹے چھوٹے پتھر ڈھونڈ رہے ہوتے اگر ہم سائنسی علوم میں خاطر خواہ ترقی نہیں کرسکے تو اپنی خفت مٹانے کے لئے اسکی مخالفت ضروری ہے کیا ؟؟؟ پاکستان پر جو “کالے بھوت “ سایہ کئے ہوے ہے ان سے نجات کے لئے مطلوب اشیاء بھی سائنس کی مرہون منت ہے
محمد سعد:
میں آپکو امریکی خفیہ پراجیکٹ Looking Glass اور philadelphia experiment پر مطالعہ کرنے کا مشورہ دوں گا۔ اور پلیز خالی وکیپیڈیا جیسی سورس پر یقین نہ کیجئے گا، کیونکہ وہاں ایک طرفہ رائے ہوتی ہے۔ یوٹیوب پر ان خفیہ امریکی پراجیکٹس سے متعلق بہت سی معلومات مل جائیں گی:
http://www.youtube.com/watch?v=hfoRUC8Ez5M
http://www.youtube.com/watch?v=ChjyCR8V2Bg
نیز جو آپ اپنی معصومیت میں یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ شمسی توانائی کا استعمال عام کرنے کیلئے یہاں کوششیں جاری ہیں تو اسکی ذرا Cost Of Production بھی دیکھ لیں۔ عام آدمی کی پہنچ سے بالکل باہر۔
نیز سائنسدانوں کو جو ماحول کی فکر کے دعوے ہیں، وہ سب کہاں تھے جب پچھلے ۵۰، ۶۰ سالوں میں انہی نام نہاد سائنس دانوں کی موجودگی میں ہمارے ماحول کا بیڑا غرق ہو گیا ہے۔ سائنس دان کی کوئی طاقت نہیں ہے۔ صرف بینکسٹر کی طاقت ہے اس دنیا میں!
وکی پیڈیا کم از کم سائنس کے معاملے میں مجھے چیزوں کے کام کی تفصیلات بھی بتا کر دیتا ہے اور اپنی بات کو علمی طریقے سے ثابت بھی کرتا ہے۔ آپ نے مجھے آج تک اپنے ایک بھی دعوے کو علمی دلائل سے ثابت نہیں کیا اور نہ ہی اس قسم کے دعوے کرنے والے کسی اور شخص نے۔ بلکہ کبھی آپ نے اس کی ذرا سی تفصیل پر بھی بات نہیں کی کہ یہ کام ہوتا کیسے ہے۔ دوسروں کے جن بیانات کے آپ حوالے دیتے رہتے ہیں، ان میں بھی بہت سی واضح خامیاں ہوتی ہیں جن کو میں وقتاً فوقتاً ثابت کرتا رہتا ہوں۔ محض بیانات اور کہانیاں تو میں بھی ترتیب دے سکتا ہوں۔
)۔ بہت سے لوگ بھی ان افواہوں پر اس حد تک یقین کرنے لگے تھے کہ ایک بار رات کے وقت صحن میں سوئے ہوئے کسی شخص پر بلی نے چھلانگ لگائی تو وہ بوکھلاہٹ میں اٹھ کر گولیاں چلانے لگ گیا۔
ابھی کچھ عرصہ پہلے (سال دو سال پہلے) یہاں ہمارے شہر میں لوگوں کو اچانک کوئی عجیب سی بلا نظر آنے لگ گئی جس کے متعلق ان کا بیان تھا کہ انسان اور گوریلے دونوں کے خوائص اس میں موجود ہیں اور یہ عمارتوں کے اوپر چھلانگیں لگاتا پھرتا ہے۔ کئی لوگوں نے دعویٰ کیا کہ فلاں دن کو اس پر پولیس والوں نے گولیاں چلائیں لیکن اس پر اثر نہیں ہوا۔ بلکہ کئی لوگوں نے تو یہ بھی کہا کہ میں نے فلاں دن کو اسے فلاں عمارت پر سے فلاں سمت میں چھلانگ لگاتے ہوئے دیکھا۔ یہ کہتے ہوئے انہیں یہ خیال ہی نہ آیا کہ ان کے بیانات میں ایک بہت ہی واضح خامی ہے (اور خامیاں بھی تھیں لیکن سب سے واضح جو مجھے نظر آئی وہ یہ تھی) کیونکہ وہاں پر بجلی کے تاروں کی صورتِ حال ایسی ہے کہ اس چھلاوے کی یہ چھلانگ “موت کی چھلانگ” ہوتی۔ بلکہ صرف اسی مقام پر نہیں بلکہ شہر کے بیشتر حصے میں بجلی کے تاروں کی صورتِ حال ایسی ہے کہ اگر کوئی چھلاوہ عمارتوں کے بیچ میں چھلانگیں لگاتا پھرتا تو پہلے دو ہفتوں کے اندر ہی اس کی لاش کسی تار سے لٹکی ہوئی ملتی (بلکہ شاید میرے علاوہ کسی اور نے غور کیا ہی نہیں
تو آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگوں کو افواہیں پھیلانے میں بڑا مزا آتا ہے۔ اور ایک بار افواہ کی ابتداء ہو جائے تو لوگوں کی ایک بڑی تعداد بغیر تحقیق کے اسے آگے بڑھاتی رہتی ہے۔ اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے اس صورتِ حال کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں اور طرح طرح کے دعوے کرتے ہیں جیسا کہ آپ نے اس مثال میں دیکھا۔ آپ نے آج تک اس قسم کے جو دعوے کیے ہیں، ان کی صورتِ حال بھی کچھ ایسی ہی ہے۔
آپ نے دو ویڈیوز کے روابط مہیا کیے۔ ان کا میں جواب تو لکھ دوں لیکن فائدہ کیا ہوگا؟ ہمیشہ کی طرح پورا دن میں اس پر مختلف زاویوں سے تحقیق کرنے اور اس کی بنیاد پر ایک مفصل جواب لکھنے میں لگا دوں گا لیکن آپ اسے ماننا تو دور کی بات، اسے غور سے پڑھیں گے ہی نہیں۔ میں تو اس موضوع پر سب کی سب بکواس ویڈیوز دیکھ لوں گا لیکن آپ کبھی غیر جانبدارانہ انداز میں طبیعیات کے وہ اصول تک نہیں پڑھیں گے جن کا اس موضوع کے ساتھ بنیادی نوعیت کا تعلق ہے۔
اقتباس:
“نیز جو آپ اپنی معصومیت میں یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ شمسی توانائی کا استعمال عام کرنے کیلئے یہاں کوششیں جاری ہیں تو اسکی ذرا Cost Of Production بھی دیکھ لیں۔ عام آدمی کی پہنچ سے بالکل باہر۔”
اگر آپ شمسی سیل کی ساخت کو اچھی طرح سمجھتے ہوتے تو آپ اس کا الزام بھی ہمیشہ کی طرح حکومتوں پر نہ ڈال دیتے۔ پہلے شمسی سیل کے متعلق تمام تفصیلات کا مطالعہ کر کے آئیں پھر بات کریں۔ میں آپ کے لیے آپ کی ارسال کردہ تمام افواہوں کا تفصیلی مطالعہ کر سکتا ہوں تو کیا آپ میرے لیے اتنا سا کام بھی نہیں کر سکتے؟
اقتباس:
“نیز سائنسدانوں کو جو ماحول کی فکر کے دعوے ہیں، وہ سب کہاں تھے جب پچھلے ۵۰، ۶۰ سالوں میں انہی نام نہاد سائنس دانوں کی موجودگی میں ہمارے ماحول کا بیڑا غرق ہو گیا ہے۔”
سائنس دانوں نے بہت پہلے ہی سے صورتِ حال کو بھانپ کر شور مچانا شروع کر دیا تھا بلکہ یہ جو آپ آج کے بجلی کی بچت کرنے والے آلات دیکھتے ہیں، یہ پچھلے کئی سالوں میں ہونے والی تحقیقات ہی کا ثمر ہیں۔ پروا لوگوں کو نہیں تھی کیونکہ ماحول کو بچانے کے لیے انہیں آرام طلبی کی زندگی سے باہر آنا پڑتا جو انہیں منظور نہیں تھا۔
اقتباس:
“سائنس دان کی کوئی طاقت نہیں ہے۔ صرف بینکسٹر کی طاقت ہے اس دنیا میں!”
آج تک جتنی اقوام نے مثالی ترقی کی ہے، ان سب کی ترقی میں تجارت یا بینکاری سے زیادہ علمی تحقیق کا ہاتھ تھا اور ہے۔ کیونکہ سائنسی تحقیق سے قوم کو خود مختاری اور مضبوطی ملتی ہے جس کے نتیجے میں ترقی کی نئی راہیں کھلتی ہیں۔ چاہیں تو تاریخ پڑھ لیں۔ یا پھر شاید میری بات کی تصدیق کرنے سے آپ کے آرام میں خلل پڑے گا؟
یہ تصور بہت ہی خوب صورت ہے کہ میں کچھ ایسی زبردست بات جانتا ہوں جو اوروں کو نہیں معلوم۔ لیکن اس تصور کو حقیقت بنانے کے لیے بہت محنت اور تحقیق کرنی پڑتی ہے جس کے لیے ہر ایک تیار نہیں ہوتا۔ یہ بھی ایک بڑی وجہ ہے کہ بیشتر لوگ اتنی آسانی سے ان افواہوں پر یقین کر لیتے ہیں۔
اقتباس:
نیز جو آپ اپنی معصومیت میں یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ شمسی توانائی کا استعمال عام کرنے کیلئے یہاں کوششیں جاری ہیں تو اسکی ذرا Cost Of Production بھی دیکھ لیں۔ عام آدمی کی پہنچ سے بالکل باہر۔
عارف صاحب آپ کے جذبات قابل قدر ہیں اور امید ہے کہ انہیں ہم تک پہنچانے کے لیے آپ کو سائنس و ٹیکنالوجی کی کچھ ضرورت نہیں پڑی ہوگی۔ ذیل میں شمسی توانائی کے عام لوگوں تک پھیلاؤ کے لیے ایک لنک ہے۔ شمسی توانائی اور عام استعمال کوئی فکشن تو رہا نہیں
http://www.sce.com/solarleadership/gosolar/california-solar-initiative/
کچھ ٹیکنالوجیز کلی طور پر کبھی عام آدمی کی پہنچ میں نہیں ہوتیں لیکن گرڈ کی ایک اکائی اس کی دسترس میں کی جاتی ہے یہی شمسی توانائی کے بڑے منصوبوں کی کامیابی کا ذریعہ ہوتی ہے۔ آپ اتنے خفیہ پراجیکٹس کی معلومات رکھتے ہیں پھر بھی کافی ساری باتیں محض قیاس آرائیاں معلوم ہوتی ہیں ویسے بھی اس پوسٹ میں عملی سائنس پر توجہ دی گئی تھی میٹا فزکس اور لیب سائنس پر بات نہیں ہورہی تھی۔
’’میں تو اس موضوع پر سب کی سب بکواس ویڈیوز دیکھ لوں گا لیکن آپ کبھی غیر جانبدارانہ انداز میں طبیعیات کے وہ اصول تک نہیں پڑھیں گے جن کا اس موضوع کے ساتھ بنیادی نوعیت کا تعلق ہے۔‘‘
کالج کے زمانہ میں نیوٹن ،آئن اسٹائن اور پلانکس وغیرہ کے تمام قوانین نہ صرف پڑھ چکا ہوں بلکہ اچھے گریڈز سے انمیں کامیاب بھی ہوا ہوں۔
اب آپ بھی ذرا نیکولا ٹیسلا کے قوانین برقی مقناطیسیت کا مطالعہ کیجئے نہ۔ اور پتا لگائیے ان خفیہ پراجیکٹس کا جنکو جان بوجھ کر روکا گیا تا کہ بینکسٹرز کی آمدن میں فرق نہ پڑے!
عارف کریم،
۔ بہرحال میں کہہ رہا تھا کہ نیکولا ٹیسلا کی تحقیقات کا مطالعہ پہلے ہی سے میری آئندہ مطالعے کی فہرست پر ہے۔ لیکن چونکہ میں اس کا مطالعہ آرام و سکون کے ساتھ کرنا چاہتا ہوں اس لیے اسے میں نے کچھ دن (یا شاید ہفتے
) بعد کے لیے رکھا ہوا ہے۔ آپ کے ساتھ مباحثوں سے میں ویسے بھی تھک گیا ہوں۔ کچھ دن مجھے اپنی مرضی کا مطالعہ کرنے کے لیے چاہئیں تاکہ تازہ دم ہو سکوں۔
اگر آپ کو لگتا ہے کہ صرف کالج وغیرہ کی سطح تک پڑھائے جانے والی چیز ہی کا نام سائنس ہے تو اس میں میرا کوئی قصور نہیں۔ میں چھ یا سات سال کی عمر سے ہی سائنس بڑے شوق سے پڑھتا آیا ہوں اور ظاہری بات ہے کہ ایسے میں سکول و کالج کی کتابیں کافی نہیں پڑتیں چنانچہ اضافی کتب بھی بڑی تعداد میں پڑھی ہیں۔ گھر میں انٹرنیٹ آنے سے اور بھی سہولت ہو گئی چنانچہ اب اگر دن میں کم از کم ایک سائنسی مضامین نہ پڑھ لوں تو سکون کی نیند نہیں آتی۔ اگر میرا علم صرف سکول کالج وغیرہ کی سائنس تک محدود ہوتا تو شاید میں بھی دوسروں کی طرح آپ کی باتوں پر یقین کر لیتا کیونکہ بہت سی باتیں جو آپ کرتے ہیں اس کے احاطے میں نہیں آتیں۔
میں نے طبیعیات کے جن متعلقہ اصولوں کا مطالعہ کرنے کی بات کی ہے، وہ ظاہری بات ہے کہ آپ کے دعوے کے تناسب سے ہی پیچیدہ ہوں گے اور ان میں سے بہت سے اپنی پیچیدگی کے باعث کالج وغیرہ کے نصاب میں نہیں پڑھائے جاتے۔ انہی اصولوں کی بات میں نے کی ہے کہ آپ مجھے تو ان کی اضافی جزئیات کا بھی تفصیلی مطالعہ کرواتے ہیں اور خود ان میں سے صرف ایک دو بنیادی اصولوں کا بھی مطالعہ نہیں کرتے۔ اگر کرتے تو آپ ان میں سے بیشتر دعووں کو خود ہی رد کر دیتے۔
نکولا ٹیسلا کے متعلق میں نے مختصراً تو پڑھا ہے جب آپ نے یہاں ایک تحریر پر اس پر تبصرہ کیا تھا اور اس مختصر تعارف سے یہ کافی دلچسپ شخصیت معلوم ہوتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود آپ کے ٹنگسکا والے دعوے کو رد کرنے کے لیے علمی دلائل کی تعداد میں کوئی کمی نہیں آئی
اس دوران آپ بھی تفصیلات ڈھونڈ کر رکھ لیں کہ فلاں فلاں کام کیسے اور کن اصولوں کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ تب بحث میں کوئی مزا آئے گا۔ ورنہ اگر مخالف طرف سے علمی دلائل کی توقع نہ ہو تو میرے لیے اس بحث میں حصہ لینے کی کون سی وجہ ہے جس کے لیے میں اپنے سارے دن کے معمول میں آپ کی بحث کے لیے گنجائش پیدا کروں؟
.-= محمد سعد کے بلاگ کی آخری تحریر ہے blog ..Cannot read Urdu? Click Here =-.