مصنف مکی - زمرہ علوم (سائنس)7 تبصرے | Nov 7th, 2009147 مشاہدات
مشہور روبوٹک انجینئر دینئل ایچ ولسن (Daniel H. Wilson) کہتے ہیں: ”انسان ایک مسکین اور قابلِ رحم جاندار ہے… ہمارے تیز ناخن نہیں ہیں… ہمارے دانت بہت چھوٹے ہیں… ہمارا جسم ایک بہت نازک اور حساس جلد سے ڈھکا ہوا ہے… ہم میں سے اکثر تو ننگے پاؤں باہر نہیں چل سکتے”.
اگر ماضی سے حال کا مقابلہ کیا جائے تو انسان نے عسکری میدان میں بہت ترقی...
مصنف مکی - زمرہ علوم (سائنس)4 تبصرے | Nov 5th, 2009140 مشاہدات
بعض علمائے فلک کہتے ہیں کہ اگر ہماری کہکشاں نہ گھومتی ہوتی تو کب کی ایک بہت بڑا سیاہ شگاف بن چکی ہوتی، اس انجام سے ہمیں ہماری کہکشاں کے ستاروں کے مداروں نے بچا رکھا ہے جس سے کہکشاں کے مرکز کے ساتھ تجاذب کا توازن قائم رہتا ہے.
پھر بھی کوئی کہکشاں ڈھیر ہوکر سیاہ شگاف بن سکتی ہے، مشہور فلکیات دان سٹیفن ہاکنگ نے پیش گوئی کی ہے کہ ایک چھوٹا...
مصنف مکی - زمرہ علوم (سائنس)14 تبصرے | Nov 5th, 2009184 مشاہدات
آپ صبح نیند سے بیدار ہوتے ہیں.. مگر آپ کبھی وقت نہیں جان سکیں گے کیونکہ تمام میکینکل گھڑیاں اور وہ بھی جو بیٹری یا بجلی سے چلتی ہیں سائنسی بنیادوں پر استوار کی گئی ہیں جس سے وہ چلتی ہیں.. چنانچہ سارا دن وقت آپ کے لیے ایک پہلی ہی بنا رہے گا.
اپنے بستر سے اٹھتے ہیں.. اگر کھڑکی بند ہے تو آپ گھپ اندھیرے میں ہوں گے کیونکہ بجلی کے بلب ایک سائنسی...
مصنف مکی - زمرہ علوم (سائنس)7 تبصرے | Nov 3rd, 2009156 مشاہدات
علماء کا خیال ہے کہ جن سیاروں کا کرہ ہوائی نہیں ہے ان پر کسی بھی صورت میں زندگی کے آثار پائے جانے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے، علماء کے مطابق ہماری کہکشاں میں اس وقت 300 ملین ایسے ستارے موجود ہیں جن کا کوئی شمسیاتی نظام ہے، ان ستاروں کے گرد گردش کرنے والے سیارے یا تو ستاے کے بہت قریب ہوں گے جس کی وجہ سے ان کی سطح پر درجہ حرارت بہت زیادہ ہوگا...
مصنف مکی - زمرہ علوم (سائنس)2 تبصرے | Nov 2nd, 200990 مشاہدات
زمانہ قدیم میں اقلیدس اور بطلیموس کا خیال تھا کہ آنکھ ایک روشنی کی لہر چھوڑتی ہے جس سے چیزیں نظر آتی ہیں، سب سے پہلا شخص جس نے یہ دریافت کیا کہ روشنی کی لہر آنکھ سے نہیں نکلتی بلکہ آنکھ میں داخل ہوتی ہے وہ دسویں صدی عیسوی کا مشہور مسلمان عالم الحسن ابن الہیثم تھا، ابن الہیثم علم البصریات کے بابا مانے جاتے ہیں، وہ پہلے شخص بھی تھے جنہوں...
مصنف مکی - زمرہ عام موضوعات, علوم (سائنس)10 تبصرے | Oct 31st, 2009235 مشاہدات
زمین کے گرد خلائی ملبہ کی کثافت
خلائی ملبہ (انگریزی میں: Space debris یا space junk) انسان کے ایجاد کردہ آلات اور مصنوعی سیاروں کی وہ باقیات ہے جو نظامِ شمسی کے سیاروں کے مداروں میں گردش کر رہا ہے، اس خلائی ملبہ کا زیادہ تر حصہ نظام شمسی کے سیارے زمین کے گرد گردش کرتا ہے، اس میں ہر وہ چیز شامل ہے جس کی خلاء میں ضرورت باقی نہیں رہی جیسے کوئی خراب...
مصنف مکی - زمرہ علوم (سائنس)9 تبصرے | Oct 19th, 20097,182 مشاہدات
وقت یا زمان میں سفر کا مفہوم یہ ہے کہ مکان کی طرح زمان میں بھی زمان کے مختلف نقاط میں آگے یا پیچھے منتقل ہوا جائے، وقت میں سفر کے بعض تصورات میں متوازی کائناتوں تک منتقلی کو بھی ممکن قرار دیا گیا ہے، انیسوی صدی کی سائنس فکشن کہانیوں میں بھی وقت میں سفر کو ممکن قرار دیا گیا، ماضی میں نظریہ اضافیت کے پیش نظر وقت میں سفر صرف مستقبل کی طرف...
مصنف مکی - زمرہ علوم (سائنس)6 تبصرے | Oct 15th, 2009211 مشاہدات
متعدد کائناتیں یا Multiverse (ابھی تک) تصوراتی متعدد کائناتیں ہیں جن میں ہماری کائنات بھی شامل ہے جو باہم مل کر سارے وجود کو تشکیل دیتے ہیں، متعدد کائناتیں بعض علمی نظریات کا نتیجہ ہیں جن میں بالآخر ان متعدد کائناتوں کا وجود لازمی قرار پاتا ہے، یہ نتیجہ علم کونیات میں کوانٹم نظریہ میں بنیادی ریاضی کو واضح کرنے کی کوششوں کے نتیجہ میں سامنا...