سقراطی فلسفہ

Jun
28

فلاسفر کہلانے کے لیے آپ کا فلسفی ہونا ضروری نہیں، فلسفے کا ہونا ضروری ہے، فی زمانہ بہکی بہکی باتیں کرنے والے کسی بھی شخص پر فلسفی ہونے کا گماں گزرتا ہے، اسی لیے معاشرہ ایسے لوگوں کو الگ رکھتا ہے تاکہ لوگ مضطرب نہ ہوں، لوگوں میں اضطراب کی پہلی اور آخری وجہ فلسفہ ہے، یقین نہ آئے تو کسی بھی سگنل پر آدھا گھنٹہ گزار آئیے، فلسفہ لوگوں کو باور کراتا ہے کہ انہیں سوچنے کی ضرورت ہے، یہی وجہ ہے کہ بے روزگار حضرات بجائے کوئی کام دھندہ ڈھونڈ کر نارمل زندگی گزارنے کے سوچنا شروع کر دیتے ہیں۔

فلسفے کے ذریعے آپ کسی بھی چیز کو رد کر سکتے ہیں چاہے وہ مذہب ہو، معاشرہ ہو، اخلاقیات ہوں یا غیر اخلاقی کام بلکہ آپ اس کرسی کو بھی رد کر سکتے ہیں جس پر میں اس وقت اپنی تشریف رکھے ہوئے ہوں!!

در حقیقت یہ تحریر آپ کو فلسفے کے معنی یا اس کے فائدے بتانے کے لیے نہیں لکھی گئی ہے، خاکسار کو اس کی چنداں پرواہ نہیں، ضروری یہ ہے کہ فلسفہ کیسے جھاڑا جائے۔

ہذیان بکنے والا رعب دار فلسفی بننے کے لیے آپ کو کسی (بھی) چیز پر تحقیق کرنی ہوگی، مثال کے طور پر: ❞مذاہبِ دوراں پر تحقیق❝ اور پھر اسے ثابت کرنے کے لیے سرگرداں ہونا ہوگا، سب سے پہلے مرحلے میں آپ کو پرانی کتابوں کی ایک ضخیم کمیت درکار ہوگی جو دل ودماغ بشمول جیب کے بھاری پڑے گی لہذا اگر بے روزگار ہیں تو قرض لے لیں، اس کے علاوہ آپ کو علمائے حق ونا حق کی قیمتی وغیر قیمتی آراء بھی درکار ہوں گی، اب آپ کو صرف کاغذ، قلم اور مناسب فاصلے پر رکھی ردی کی ایک ٹوکری درکار ہوگی، اب کسی بھی مذہب پر تحقیق شروع کر دیں، اس کے لیے ازمنہ قدیم سے فلاسفہ کے ہاں کئی طریقے مروج ہیں مگر سب سے بہترین طریقہ سقراطی طریقہ ہے۔

سقراطی طریقہ

فلسفے کا سقراطی طریقہ جلیبی سے بھی زیادہ سیدھا ہے، اگرچہ اس کے ذریعے آپ کسی بھی چیز کو کچھ بھی ثابت کر سکتے ہیں تاہم اس کی کیفیت میں اختلاف پایا جاتا ہے لیکن بنیادی طریقہ ایک ہے، آپ کو بس اپنی شک کی تمام تر صلاحیتوں کو جگا کر انہیں بروئے کار لانا ہوگا اور اس بات پر زور دینا ہوگا کہ: ❞کسی مخصوص شخص سے صادر ہونے والے تمام تر نظریات ممکنہ طور پر غلط ہوسکتے ہیں❝، اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ کسی بھی سوال کا جواب اس سے بھی زیادہ بے ہودہ سوال سے دیں!!

اپنے فلسفیانہ مباحث میں مندرجہ ذیل پہلؤوں کو ہمیشہ ملحوظِ غبارِ خاطر رکھیں:

1- کیوں؟
2- اسے ثابت کرو!
3- کیا آپ کو یقین ہے؟
4- واقعی؟ کیا یہ بے وقوفی کی کوئی قسم ہے؟
5- اس کا کیا مطلب ہے؟

فلسفے کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہ منطق کا دامن کبھی نہیں چھوڑتا اسی لیے سمجھ نہیں آتا، اسے سمجھنے کی بس ایک ہی صورت ہے کہ اس سے منطق کو الگ کردیا جائے، اس طرح یہ صحت کے لیے مفید بن جاتا ہے اگرچہ دوسروں کی، یہ بتانے کی تو چنداں ضرورت نہیں کہ فلسفہ دنیا کے تمام مسائل حل کر سکتا ہے چاہے ان مسائل کا دنیا سے قطعی کوئی تعلق ہی نہ ہو!

ہوسکتا ہے کہ ازمنہء قدیم میں کچھ دنیا بے زار لوگوں کے لیے فلسفہ مفید رہا ہو، یہ بھی ممکن ہے کہ خرافات کے رد میں اس نے کوئی کردار ادا کیا ہو تاہم سائنس کے پستول سے اسے گولی مار دی گئی ہے، سائنسی ترقی کے اس دور میں ڈیکارٹ کا یہ قول کہ: ❞میں پیتا ہوں اس لیے میں میں ہوں❝ ایک مجذوب کی بڑ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا، رفتہ رفتہ شاید فلسفے کی جگہ کوئی بہتر چیز آجائے، کندانِ ذہن ودہن کے لیے یہی بہتر ہے۔

تبصرہ کریں

استنباط اور استقراء

Oct
26

inductive-and-deductive-reasoning-21234111

معلومات کے حصول کے لیے دو طریقے اختیار کیے جاتے ہیں. استنباط اور استقراء، استنباط (Deductive Reasoning) کو استعمال کرتے ہوئے ہم ایک عام معلومہ سے خاص معلومات حاصل کر سکتے ہیں، تمام انسان مرتے ہیں (عام معلومہ) زید انسان ہے لہذا زید بھی مرے گا (زید کے لیے خاص معلومہ)، جبکہ استقراء میں ہم خاص معلومہ سے عام معلومہ حاصل کرتے ہیں، اس آگ نے میرا ہاتھ جلا دیا، لہذا آگ (عام طور پر) جلاتی ہے۔

استنباط کے بارے میں‌ کہا جاتا ہے کہ یہ معلومات کے حصول کا سب سے بہترین طریقہ ہے بلکہ بعض فلاسفہ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ استنباط ہی معلومات کے حصول کا واحد ذریعہ ہے، اگر عام معلومہ درست ہو تو استنباط کے نتیجے کو بھی لازماً درست ہونا چاہیے چاہے وہ نتیجہ کچھ بھی ہو، اگر ہم ریاضی پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ یہ استنباط پر مبنی ہے، ریاضی کا ہر معاملہ کچھ بدیہیات سے شروع ہوتا ہے اور پھر ان بدیہیات سے استنباط کرتے ہوئے ہم نظریات تک پہنچتے ہیں، مثال کے طور پر ریاضیاتی ہندسہ پانچ بدیہیات پر مشتمل ہے ان بدیہیات کو استنباط کے ساتھ استعمال کرتے ہوئے ہم تمام تر ہندسی حقائق اور نظریات تک پہنچ سکتے ہیں، اگرچہ یہ نتیجہ درست ہے تاہم یہ کوئی نئی معلومہ نہیں‌ ہے، یعنی کسی پیچیدہ مساوات کو حل کرنے سے ایسی کوئی نئی معلومہ حاصل نہیں‌ ہوتی جو مساوات میں‌ موجود نہ ہو، چنانچہ استنباط کوئی نئی معلومات نہیں‌ دے سکتا۔

deductive-reasoning

استنباط میں‌ مسئلہ یہ ہے کہ یہ بدیہیات پر انحصار کرتا ہے جن کا درست ہونا ضروری ہے تاکہ ان بدیہیات پر کھڑی کی گئی نتائج کی عمارت بھی درست ہو، چنانچہ سوال یہ ہے کہ یہ بدیہیات کہاں سے لائی جائیں؟ ریاضی میں‌ بدیہیات تلاش کرنا آسان ہے (مثلاً کون سے دو نقطوں سے ہم انہیں آپس میں‌ جوڑ کر ایک خط مستقیم حاصل کر سکتے ہیں) لیکن کیا حیاتیات جیسے علم کے لیے بدیہیات تلاش کی جاسکتی ہیں؟

سترہویں صدی میں‌ علمی انقلاب کے آغاز خاص کر فرانسس بیکن کے زمانے میں استقراء (Inductive Reasoning) ایک ایسے اوزار کے طور پر استعمال ہونے لگا جس کے ذریعہ ہم معلومات کی تعمیم کر سکیں، تاہم استقراء سے حاصل کردہ معلومات استنباط سے حاصل کردہ معلومات کی طرح نہیں‌ جن کا درست ہونا لازماً ضروری ہوتا ہے، استقراء سے حاصل کردہ معلومات ایسی معلومات ہوتی ہیں جو درست ہوسکتی ہیں، یہ قطعی درست نہیں ہوتیں بلکہ یہ بہت حد تک درست ہوتی ہیں، مثال کے طور پر ہم نے سو شیر دیکھے مگر ان میں‌ سے کسی شیر کے پر نہیں تھے، چنانچہ ہم کہہ سکتے ہیں‌ کہ شیروں کے پر نہیں ہوتے لیکن ہم غلط بھی ہوسکتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ کسی شیر میں مخصوص میوٹیشن کی وجہ سے پر نکل آئیں، لہذا جس قدر مشاہدات کی تعداد زیادہ ہوگی اسی قدر اس خاص معلومہ کی درستگی کی شرح بڑھ جائے گی، لہذا استقراء قطعی درست معلومات فراہم نہیں‌ کر سکتا، تھوڑا سا ہی سہی پر غلطی کا امکان بہرحال موجود رہتا ہے۔

ہمارے ارد گرد کی علمی ترقی استقراء کے ہی سبب ہے، سترہویں‌ صدی سے اب تک جتنی بھی علمی ایجادات ہوئی ہیں یہ سب استقراء کا ہی نتیجہ ہے اسلوبِ علم (Scientific method) استقراء پر اس قدر انحصار کرتا ہے کہ کسی ایک کی دوسرے کے بغیر موجودگی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، استنباط میں‌ منطق حقائق کا تعین کرتی ہے، عام معلومہ پر منطقی اوزار لاگو کرنے سے لازماً درست معلومہ حاصل ہوتی ہے، استقراء میں مشاہدہ حقائق کا تعین کرتا ہے، اگر معلومہ ہمارے مشاہدے کے مطابق نہ ہو تو اس معلومہ میں تبدیلی کر کے اسے مشاہدے کے مطابق کیا جاتا ہے۔

تبصرہ کریں

موزیلا کی یادگار پر میرا نام

Jan
19

سین فرانسسکو امریکہ میں نصب موزیلا کی یادگار پر خاکسار کا نام :)

ٹاپ فرنٹ میں چوبیسویں سطر پر خاکسار کا نام دیکھا جاسکتا ہے:

 main

 

front_top

یادگار کی اصل تصاویر کے روابط:
http://people.mozilla.org/SF_Monument/IMAGES/main.jpg
http://people.mozilla.org/SF_Monument/IMAGES/front_top.jpg

موزیلا کے کریڈٹس کا صفحہ:
http://www.mozilla.org/credits

اس کے علاوہ فائر فاکس براؤزر کے ایڈریس بار میں about:credits لکھ کر بھی خاکسار کا نام دیکھا جاسکتا ہے۔

تبصرے 10

گفتار خیالی

Sep
21

GUFTAR-KHAYALI

بادلوں پہ کیا بھروسہ دھوپ کا کیا اعتبار
آدمی کو چاہیے دریا کا دھارا دیکھنا

گفتار خیالی کو ہم سے بچھڑے ساتواں برس بیت چکا (وفات 23 ستمبر 2006)، آپ فطری طور پر ایک شاعر تھے وقت کے ساتھ ساتھ ان کی شاعری کے رنگ بھی بدلتے رہے اور ان کے علمی وادبی ذوق کو مطالعہ اور مشاہدہ نکھارتا چلا گیا، سچے فنکار کے دل میں تخلیق کی لگن بجھ نہیں سکتی، فن تخلیق کرنا تو اپنے اندر قیامت تک الاؤ لگا لینے کا نام ہے، گفتار خیالی جو دائرہ دین پناہ جیسے ایک پسماندہ اور افتادہ قصبہ کے باسی تھے، ایک قابلِ فخر کردار کے طور پر جانے جاتے تھے، ان کی شاعری میں حسن، لطافت، اقدارِ حیات کی سربُلندی، ذاتی تجربات ومشاہدات، خلوص وصداقت، جذبات واحساسات کی شدت، معاشرتی نا ہمواریوں کا شکوہ، انسان کی بے چہرگی کا ماتم، انسان دوستی کا جذبہ، غمِ ذات وکائنات، فکری بصیرت، انسانی وآفاقی رشتوں کی تلاش بہت ہی نمایاں تھی، ان کی غزلیں مخصوص خد وخال، مزاج اور لب ولہجہ کی نمائندگی کرتی ہیں، جبکہ نظموں میں تسلسل، ربط، تاثراتی شدت اور شیرینی بدرجہ اتم موجود ہے، یہ ایک حقیقت ہے کہ گفتار خیالی کی ذات وقارِ آدم کا انمول سراپا تھی، ان کے قہقہے روح کو وجدان بخشتے، آپ ولی نہیں تھے، مگر ان کا قلب، ان کی نظر ولیوں سے کم نہ تھی، گفتار خیالی صاحب آج تیرے خستہ دل غمخوار، عزیز واقارب، اہلِ خانہ، دوست احباب تیری یادوں کی راہگزر پر برسی کا دیا روشن کیے بیٹھے ہیں، تڑپا دینے والی چٹان پر بیٹھے آپ کو موت کی وادی سے واپس لوٹنے کے لیے صدائیں دے رہے ہیں، آپ کے ننھے پوتے، نواسے، نواسیاں، بیٹے، بیٹیاں، دل گرفتہ بھائیوں کی کُرلاٹیں اور درد بھری صدائیں صدائے گنبد کی طرح گونج کر سوز میں تبدیل ہوجاتی ہیں، آپ کے بغیر آپ کے اشعار آپ کی دردمند فطرت بے قرار دل اور مضطرب روح کا حال سنا رہے ہیں، آپ کی یادوں کے روشن چراغ ہمارے لیے فانوسِ راہ کا کام دے رہے ہیں، جب تک آپ کا کلام زندہ ہے، ادب اور فن زندہ ہے، انسانیت، دردمندی، مروت، حسنِ اخلاق اور وسعتِ قلب ونظر زندہ ہے اس وقت تک آپ بھی زندہ ہیں، آپ کا نام آپ کا کلام بھی زندہ ہے۔

پتھر بھی آج موم کی صورت پگھل گیا
گفتار کے کلام کا اعجاز دیکھنا

گفتار خیالی مرحوم کے متعلق ملک بھر کے نامور شعراء ادباء، نقاد اور ہمعصر شعراء کی آراء پیشِ خدمت ہیں: ظہیر کاشمیری کی رائے ہے کہ گفتار خیالی نوجوان نسل کے شاعروں میں اپنا ایک علیحدہ اور منفرد مقام رکھتے ہیں، خارجی حالات کی جبریت کے خلاف ردِ عمل کے طور پر دوسرے شاعروں کی طرح اپنی ذات کی ٹوٹ پھوٹ اور اکیلے پن کا نوحہ نہیں لکھتے بلکہ اسلوب کے خلاف نبرد آزما ہونے کا رزمیہ تحریر کرتا ہے، وہ شرفِ انسانی اور اعلی اقدار کا ترجمان ہے اور تقدیر پرستی کے فلسفہ کے خلاف غلاموں، پسماندہ طبقوں کو جہادِ حریت کا پیغام دیتا ہے، وہ عمل وتغیر کا وظیفہ خواں ہے اور مبنی بہ انصاف معاشروں کی بنیاد پر عالمی امن کا خواب دیکھتا ہے، اُس کا اُسلوبِ بیان اُس کا اپنا ہے، وہ لفظوں کی تراش خراش کے مفہوم سے آگاہ ہے اور واضح اور مناسب اندازِ بیان کے ذریعہ قاری تک اپنے جذبات کی ترسیل کرتا ہے۔

چاند کی تارے کی جگنو کی نہ تتلی کی طلب
تیسری دنیا کے بچوں کو ہے روٹی کی طلب

ظلم حد سے بڑھ گیا اتنا کہ اب مظلوم بھی
گھر کے برتن بیچ کر کرتا ہے برچھی کی طلب

ملک کے نامور شاعر ادیب، نقاد ممتاز افسانہ نگار احمد ندیم قاسمی کا خیال ہے کہ: گفتار خیالی کے اندر تخلیقِ فن کا جو شعلہ بے قرار ہے وہ ملک کے ادبی وتہذیبی مراکز سے دوری کے باوجود بجھنے نہیں پاتا، اس کی دوری کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ گفتار خیالی کے اسلوبِ اظہار اپنی ایک واضح انفرادیت رکھتا ہے اس کا تخلص گفتار ہے، لیکن اگر خوش گفتار کہا جائے تو اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہوگا۔

ہم ہیں سورج ہمارے ساتھ چلو
ہم جہاں ہوں گے شب نہیں ہوگی

ملک کے نامور شاعر، ادیب امجد اسلام امجد کہتے ہیں: گفتار خیالی جدید نسل کے شعراء میں ایک جانا پہچانا نام ہے، ان کے کلام میں بے ساختگی، جذبے کے وفور اور احساس کی شدت کی جگہ تفکر، سنجیدگی اور اپنے امیج کو بنائے رکھنے کا احساس نمایاں ہوجاتا ہے، لیکن گفتار خیالی کے ہاں یہ واردات ہوتے ہوتے رہ گئی، گفتار خیالی کی نظموں اور غزلوں میں ایک مخصوص انداز کی ہمواریت کا احساس ہوتا ہے، وہ نظم میں غزل اور غزل میں نظم کے پینترے بڑی بے تکلفی سے استعمال کرتے ہیں، اس کی فکر ایک جدید اور حساس ذہن کی آئینہ دار ہے، ان کے کلام کو پڑھ کر خوشی محسوس ہوتی ہے۔

فکر پر فالج گرا اور ذہن مردہ ہوگیا
شدتِ اظہار سے ہر لفظ گونگا ہوگیا

مدتوں سورج کی گردش پر رہی جس کی نظر
روشنی کے شوق سے آنکھوں سے اندھا ہوگیا

نامور شاعر شبنم رومانی کا خیال ہے: گیت روحانی سگندھ اور روحانی سمبندھ کا نام ہے، اور جب گیت سے یہ دونوں چیزیں الگ کردی جائیں تب اس کے صراطِ نظم کہنے کی واردات سے جا ملتے ہیں جس سے گیت کی رنگ ارپنا خائف اور رنگ درپنا غائب ہوجاتی ہے، گیت کے لیے کسی عروضی ہیئت کی قید نہیں ہے، گفتار خیالی مزاجاً غزل کے ساتھ ساتھ گیت ہی کے شاعر ہیں، یہ گیت فوری طور پر غزل سے مماثل ہے مگر گیت کی یہ صورت بھی بڑی اثر انگیز ہے، اس کا آہنگ شروع سے آخر تک اپنی طرف متوجہ رکھتا ہے، یہی اس کی کامیابی ہے۔

میرے قدموں کو زمیں بھی چومتے تھکتی نہ تھی
خاک پر بیٹھا ہوا تھا لا مکاں آنکھوں میں تھا

ڈاکٹر انور سدید اپنی رائے میں کہتے ہیں: گفتار خیالی بادِ نو بہار میں ٹہلتے اور گُلوں میں رنگ بھرتے بھرتے کارسازِ حیات میں شمشیرِ برہنہ لے کر کود پڑے اور غزل کے ساتھ نظمیں بھی کہنے لگے، غزل ہو یا نظم گفتار خیالی زندگی کے نشیب وفراز کی پرواہ کیے بغیر پُرخار راہ پر گامژن رہتے، پھولوں کی معیت میں رہنا ان کی فطرت تھا لیکن وہ کانٹوں سے لہو لہان ہونے کا حوصلہ بھی رکھتے، گفتار خیالی نے مضافات میں رہنے کے با وجود تمام معیاری رسائل میں چھپ کر اپنی شاعری کا سکہ تسلیم کرایا۔

کون اس ہجر زدہ عمر کو تنہا کاٹے
دشتِ غربت ہے مجھے لمحہ بہ لمحہ کاٹے

بہاروں کے خدا اتنی گزارش ہے میری
پھول مرجھائے نہ پتجھڑ کوئی شاخا کاٹے

مرتضی برلاس فرماتے ہیں: گفتار خیالی کی شاعری میں جذبہ وفکر کی آمیزش نے گہرے تاثرات کو جنم دیا، یہ تاثر ان کے اکثر اشعار میں بکھرا پڑا ہے، ان کی شاعری محبوب کے اس روایتی تصور سے پاک ہے جو عشق کی گہری معنویت سے تہی ہے اسی لیے تو کہتے ہیں:

شعور گفتار آگیا ہے نہ میرے لہجے میں زہر گھولو
مجھے اب اپنی زباں ملی ہے میں بے زباں تھا تو تم کہاں تھے

رئیس امروہوی کی رائے ہے کہ: گفتار خیالی غزل کے لیے تخلیق ہوئے ہیں، اور غزل کی تخلیق ان کی سرشت، شاعرانہ طبعی فریضہ ہے، ان کی شاعری میں عجیب نوع کا جمال اور جمال امتزاج پذیر ہوتا نظر آیا ہے، گفتار خیالی کی غزل تغزل کی جدید نشات ثانیہ کا دل نواز نمونہ ہے، ان کے کلام کی سب سے بڑی خوبی برجستگی اور روانی ہے، شعر ملاحظہ ہو:

اندھیری رات میں روشن ستارہ ہونے والا ہے
سفر میں یوں مسافت کا اشارہ ہونے والا ہے
وہ جلوے بے تحاشہ بانٹتا پھرتا ہے راہوں میں
وہ سورج کا زمیں پر استعارہ ہونے والا ہے

سید نصیر شاہ اظہارِ خیال کرتے ہیں: گفتار خیالی کو اپنے ہی قبیلہ کا فرد سمجھتا ہوں، وہ ایک چھوٹے سے شہر دائرہ دین پناہ )مظفر گڑھ( کا باشندہ جبکہ میں بھی میانوالی جیسے دور افتادہ اور معمولی شہر کا باسی ہوں، دونوں پر پسماندگی کے بدصورت سائے لرزاں ہیں، اور پھر ہم دونوں تیسری دنیا کے تہی مایہ قلم کار ہیں، ہماری ٹوٹی ہوئی شکستہ دل بانسریوں سے لہو کے سُر پھوٹتے ہیں، جہاں تک گفتار خیالی کا تعلق ہے، وہ فن برائے فن اور فن برائے زندگی کے اس تال میل سے واقف ہے، اس کی شاعری میں غمِ دوراں بھی ہے اور غمِ جاناں بھی، مگر اس حسنِ تناسب سے کہ قاری کے ذہن پر کسی ایک افراطِ بار نہیں ہوتی، وہ زندگی کا شاعر ہے اور زندگی کی یہ دھنک رنگی ہی تو محسوسات کو تخلیق بناتی ہے، گفتار خیالی کے پاس دلداریء گفتار بھی ہے اور حسن وجمالِ خیال بھی، گفتار خیالی کی غزل، نظم، ترقی پسندانہ سوچ حکمت ودانش سے بھرپور ہے۔

اگر ایثار کا پہلو ستمگر سے نکلتا ہے
مجھے تسلیم ہے دریا سمندر سے نکلتا ہے
کبھی زرخیز مٹی سے لہو کی فصل اگتی ہے
کبھی نشونما کا حسن پتھر سے نکلتا ہے

پروفیسر جیلانی کامران کی رائے ہے: گفتار خیالی کی غزل آئینہ اور خواب کا اس روایت کے مطابق ذکر کرتی ہے جو ہمارے شعری تمدن کو شعور دیتی ہے، لیکن یہ دونوں استعارے اسی دنیا میں ایسی جہت دکھاتے ہیں جو انسانوں کے غیر انسان میں بدل جانے سے رونما ہوتی ہے، گفتار خیالی نے دل اور دوراں دونوں کے ساتھ اپنے جس شعری رشتہ کو قائم کیا ہے اس نے ایک نہایت پُر تاثیر غزل کو رونما کرنے میں مدد دی ہے، معلوم نہیں آئیندہ سفر میں شاعر کی طبیعت کس رخ کو اختیار کرے گی تاہم اس وقت وہ جس نشانِ منزل پر ہے اس کی بے چینی اور قرب ایسا ہے جسے فراموش نہیں کیا جاسکتا، میرے خیال میں شاعر کی اصل طبیعت وہ ہے جہاں وہ بڑے بڑے موضوعات اور خارج کے ساتھ رابطوں سے ہٹ کر اس انداز میں کلام کرتا ہے۔

روپ سروپ کا سارا درپن بول اٹھے
چپ رہنے پہ دل کی دھڑکن بول اٹھے
رت پلٹے اک بستہ ہو اک تختی ہو
اک مکتب ہو جس میں بچپن بول اٹھے

ظفر اقبال کہتے ہیں: گفتار خیالی کافی عرصہ سے دائرہ دین پناہ جیسی چھوٹی غیر معروف اور دور افتادہ آبادی میں ایک تسلسل کے ساتھ شعر گوئی میں مصروف ہیں، اور اکثر دیگر ہم عصروں کی طرح اس نے بھی غزل ہی کو اپنا ذریعہء اظہار بنایا ہے جبکہ اس کے اظہارِ فن کی بلوغت اسے پختہ کار شعراء میں شامل کرنے کے لیے کافی ہے، اور صنفِ غزل کے ساتھ ساتھ اس کی کمٹمنٹ اسے ایک اور امتیاز عطا کرتی ہے، چنانچہ دور دراز کے پسماندہ قصبات میں شعر وادب کی قندیل کو ایک لگن کے ساتھ ساتھ روشن رکھنا بجائے خود ایک قابلِ تعریف عمل ہے، جبکہ گفتار خیالی کے موضوعات اور طرزِ ادا میں جدید طرزِ احساس کی طرح جُست بھرنے کی ایک واضح کوشش صاف طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔

زبان خشک تھی اور آنکھ میں سمندر تھا
میرا وجود بھی کرب وبلا کا منظر تھا
میں جس کے خوف سے خود کو نہ رکھ سکا سالم
وہ ایک چور تھا جو میرے دل کے اندر تھا

ڈاکٹر پروفیسر شاہین مفتی کی رائے ہے کہ: گفتار خیالی کی غزل موضوعات کے اعتبار سے جدید اور قدیم سلسلہ ہائے فکر کا سنگم ہے، انہوں نے اپنی نظموں میں اکیسویں صدی کے اُن مسائل پر روشنی ڈالی ہے جو امنِ عالم کے دشمن ہیں۔

شیر افضل جعفری کا خیال ہے کہ: گفتار خیالی سوچِ سنسار کا سارا سرس ہے، اس کی سونہاری ٹہنیوں پر غزل کنول اور نظم پھول کھلتے ہیں جن میں سندھ کی سوندھ سسی کا سوز اور ریت کی رتنا ہوتی ہے، اس جذبہ نے جوگ جپ سے جو جنپ لیا ہے اس کی الار پر بے اختیار پیار آتا ہے، میں نے تھل کے اس راول بنجارے کو کئی بار غزل منڈل میں سیر ہوکر سنا ہے، رسالوں اور اخباروں کے پتروں رج کے پڑھا ہے، پنچھی پنجاب کا یہ ہنل جھٹ لکھنے اور پٹ چھپنے کے باوجود پل پل پیارا ہوتا جا رہا ہے، اتنی خوبیوں اور اس قدر محبوبیوں کا سیٹھ ساہوکار ہوکر بھی اس کے مزاج میں فروتنی چھائی رہتی ہے، مٹ سمٹ کے جیے جانے کا یہ چلن ہی تو اس فن مدن کے لیے شبھ شگن ہے۔

طبقہ حارہ میں بھی قطبین کے اثرات تھے
جسم کا خون برف تھا خورشید میں تابش نہ تھی

ڈاکٹر خیال امروہی کی رائے ہے کہ: گفتار خیالی مردِ درویش اور بے غرض تخلیق کار تھے، بلکہ ہمیشہ رہیں گے، وہ 1966ء سے 2006ء تک تا دمِ مرگ میرے ساتھ رہے، اس طویل عرصہ میں مرحوم نے بڑے بڑے ادبی معرکے سر کیے، ایوارڈ حاصل کیے، اس کی شاعری میں انسانی درد، معاشرتی شکست وریخت اور لفظ ومعنی کی لطافتیں اس کثرت سے بصورتِ آمد دکھائی دیتی ہیں جن کی روشنی میں اسے تخلیقی شاعر کے عنوان سے عہد ساز متفکر ومفکر کہنا چاہیے، شاعر کے لیے ضروری ہے کہ وہ فطرت کی جانب سے عطا کردہ صلاحیتوں سے کام لیتے ہوئے انسان، خدا اور کائنات کے اسرار ورموز کو سمجھے اور حتی الوسع انہیں فنکارانہ انداز سے بھی بیان کرے، گفتار خیالی نے اپنی درویش منش معروضت حقائق سے مخصوص لب ولہجے کو کام میں لاتے ہوئے فنی اسرار ورموز کے کئی خوبصورت دائرے اور زاویے تراشے، گفتار خیالی نے عوامی زبان میں بہت کچھ کہا، ہیئت وابلاغ کے بے شمار اور خوبصورت تجربے کیے، بلکہ اس کی بعض غزلوں اور نظموں میں ان کا لہجہ ایسا ہے کہ یہ لہجہ تا حال مجھے بھی نصیب نہیں ہوا، ان حقائق کو موجودہ بے ادب اور بد ذوق کیا جانیں، یہ بات ایسی نہیں جس سے تشخص ملیا میٹ ہوجائے، فن ایک بحرِ ناپید وکنار ہے، اس کی امواج اور قطرات سے اپنے دریا بناتے رہنا چاہیے۔

ظلمت شب کے مکینوں سے یہ کہہ دے کوئی
خون کے دیپ جلیں گے تو سحر دیکھیں گے

ڈاکٹر مختیار ظفر اظہارِ خیال کرتے ہیں: گفتار خیالی شعر برائے شعر گفتن کے نہیں بلکہ مقصدی شاعری کے قائل تھے، اور ترقی پسند شاعروں کی طرح اپنے جذباتی ذریعہء اظہار کو اصلاح، تعمیر اور ترقی کے لیے بروئے کار لانا شاعری کا مقصد سمجھتے تھے، اسی لیے وہ اپنی شاعری کے بارے میں کہتے ہیں:

بن جائے گی جو نغمہء جاں سوز ودل گداز
وہ آتشیں نوا کی لپک چھوڑ جاؤں گا
گفتار جس کی روشنی دن کا ثبوت دے
میں تیرگی میں ایسی مہک چھوڑ جاؤں گا

ڈاکٹر پروفیسر فوزیہ چوہدری کی رائے ہے کہ: گفتار خیالی جہاں غزل کے اچھے شاعر ہیں وہاں نظم کے بھی کامیاب شاعر ہیں، انہوں نے غزل کا شاعر ہوتے ہوئے نئی نظم قبول کرنے سے ہرگز گریز نہیں کیا، اور نظم میں بھی اپنے خیالات اسی سہولت سے بیان کرنے پر قادر ہیں جو غزل میں ان کا خاصہ ہے، ان کی خصوصیت ایک بار پھر انہیں جدید شاعر ثابت کرتی ہے جو ایک صحت مند رجحان ہے، یہ رویہ گفتار خیالی کے خیالات کی ارتقاء پذیری میں بھی ممد ومعاون ثابت ہے، اپنی اس فکر کی وسعت پذیری کی بدولت وہ اپنے وقت کے شاعر تو ہیں ہی اپنے بعد آنے والے وقت کے بھی شاعر رہیں گے۔

اگر ایثار کا پہلو ستمگر سے نکلتا ہے
مجھے تسلیم ہے دریا سمندر سے نکلتا ہے
کبھی زرخیز مٹی سے لہو کی فصل اگتی ہے
کبھی نشو نما کا حسن پتھر سے نلکتا ہے

تنویر شاہد محمد زئی کا خیال ہے کہ: گفتار خیالی کا فکری عجز وانکسار، جمالِ پُر جلال کو حاوی نہیں ہونے دیتا، شعلہ مزاجی انہیں چھو کر بھی نہیں گزری تھی، متانت، سنجیدگی ان کی شخصیت کا خاصہ تھی جو مشتعل فطرت پر شبنم کی ٹھنڈی پھوار بن کر گرتی اور ہونٹھوں سے جھڑتی چنگاریوں سے نرم مٹی میں تبدیل کردیتی ہے، وہ خوبیاں تھیں جو زندگی بھر انہیں مختلف طبقوں اور حلقوں میں ہر دلعزیز بنائے رہیں، ان کی قلندرانہ بے نیازی نے انہیں ہر محفل میں مقام وعزت وافتخار عطا کیا، شہرت، ناموری، شاعری دست بدستہ ان کی ذات کا طواف کرتی رہی۔

اعظم یاد کی رائے ہے کہ: گفتار خیالی شعر وادب کے حوالے سے ایک با شعور انسان کے مقام پر تھے جو تیرگی اور روشنی کے درمیان باریک لکیر کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتے تھے، جذبات کے پُر تموج ندی کو یکساں بحر، قافیہ، ردیف کے سانچوں کو شناخت کر کے مرحلہء شوق کو منزل دینے کی قدرت ان کی ہر شعر میں نظر آتی ہے، بلا شبہ گفتار خیالی ان شعراء کی صف میں شامل تھے جن کا کلام دیکھ کر ان کے بے ساختہ چھلک جانے کا احساس ہوتا ہے، المختصر گفتار خیالی کو زمانہ یاد کرتا ہے، آئیندہ نسلیں بھی اسے یاد کریں گی، کیونکہ اس کی درویش مزاجی اخلاص ومروت ومحبت سبھی کچھ ان کی ذات میں جمع ہوگئے تھے، آہ کیا انسان تھے، نہ صلہ کی پرواہ، نہ ستائش کی تمنا، 23 ستمبر 2006ء ان کی مرگِ ناگہانی کا ایک دلخراش منظر، حادثہ سامنے ہوتا ہے جس کی نمائندگی درجِ ذیل شعر سے ممکن ہے:

اس کو نا قدریء عالم کا صلہ کہتے ہیں
مر گئے ہم تو زمانے نے بہت یاد کیا

نمونہء کلام ملاحظہ فرمائیں:

عمر کا آدھا حصہ بیت گیا خوش فہمی میں
لوگ نہ جانے کیسے اپنی کڑیل عمریں کاٹتے ہیں
پیڑ وہ کیسے پھل لائیں گفتار خیالی دانش کے
عقل کے اندھے مالی جن کی کومل شاخیں کاٹتے ہیں

اگر تھا خوف کا پہلو مکاں تبدیل کر لیتے
جو قاتل کو پتہ تھا وہ نشاں تبدیل کر لیتے
پروں کو کاٹ لینے کی جہاں پر رسم جاری ہو
تخیل کے پرندے وہ جہاں تبدیل کر لیتے
محبت کے تقاضوں میں غلط فہمی کا امکاں تھا
مناسب تو یہی تھا رازداں تبدیل کر لیتے

جب آنگنوں میں رات کی خموشیاں مہکتی ہیں
دلوں میں تیری یاد کی سولیاں مہکتی ہیں
کبھی جو ہم نے چھو لیا تیرے خیال کا بدن
اس عطرِ بیز لمس سے پھر انگلیاں مہکتی ہیں
فرید کے دیار میں جو کوئی ہوکے آگیا
فراقِ دردِ یار میں جو قافیاں مہکتی ہیں

طبیب بن کر جو آگئے ہو میں نیم جاں تھا تو تم کہاں تھے
تمہاری الفت کی بے حسی پر میں نوحہ خواں تھا تو تم کہاں تھے
ہر ایک گُل تھا خزاں رسیدہ کہ آگ ہر سو لگی ہوئی تھی
بہار آئی تو آگئے ہو یہاں دھواں تھا تو تم کہاں تھے
لہو سے میں نے دیے جلائے تو پھر کہیں یہ سحر بھی آئی
اندھیرا ہم پہ طویل راتوں کا حکمراں تھا تو تم کہاں تھے
فلک سے گفتار بے تحاشا ستم کے شعلے برس چکے ہیں
جھلستے صحرا میں کوئی سایہ نہ سائباں تھا تو تم کہاں تھے

تبصرہ کریں

پاک لینکس کا اجراء

May
17

PakLinux-Logo

پاک لینکس 1 جناح گنوم 3 ڈیسک ٹاپ

paklinux-jinnah-gnome3-01

پاک لینکس 1 جناح ایکسفس ڈیسک ٹاپ

paklinux-jinnah-xfce-01

اردو کمپیوٹنگ کے میدانِ پُرخار میں اب تک ہوئی ترقی دیگر زبانوں کے مقابلے میں کافی سست اور غیر تسلی بخش ہے، اس کا زیادہ زور ویب کی طرف رہا ہے، جہاں تک ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر کی بات ہے تو اسے صرف اردو لکھنے کے قابل بنانے پر ہی اکتفاء کیا گیا، اس غرض کی تکمیل کے لیے اسباق، کلیدی تختوں اور ترتیبات کی تشکیل کے لیے کئی چھوٹے چھوٹے اطلاقیوں کی بھرمار رہی اور تقریباً نصف دہائی تک اس سے زیادہ کچھ نہ ہوسکا، اس ضمن میں سب سے اہم سنگِ میل نستعلیق فونٹ کی تیاری تھا جس نے اردو کمپیوٹنگ کے میدان میں ایک انقلاب برپا کردیا، لیکن جلد ہی اس کے فوائد کو بھی ویب کی طرف موڑ کر محدود کردیا گیا اور اگلی نصف دہائی تک صرف ❞اردو بلاگنگ❝ پر ہی زور دیا جاتا رہا جو آگے چل کر ایک ❞فوبیا❝ کی شکل اختیار کر گیا، نتیجتاً ویب کے وسیع میدان میں بھی صرف بلاگ ہی بنائے جاتے رہے اور دیگر شعبوں کو قطعی نظر انداز کردیا گیا، ❞بلاگنگ کلچر❝ نے ویب پر کسی اور کلچر کو پنپنے ہی نہ دیا نا ہی کمپیوٹنگ کے دیگر شعبوں کی طرف توجہ کرنے دی، نوے کی دہائی کے نصف میں انٹرنیٹ کے آغاز پر عرب ممالک میں ❞فورم کلچر❝ پروان چڑھا اور تقریباً ایک دہائی تک صورتِ حال ایسی ہی رہی جو اب جا کر آہستہ آہستہ تبدیل ہو رہی ہے، اردو دان طبقے نے بھی وہی تاریخ دہرائی ہے مگر فورم کی بجائے بلاگنگ کلچر کو پڑوان چڑھا کر، اب دیکھیے ہمارا اونٹھ کس کروٹ بیٹھتا ہے، کیا ہم محض بلاگنگ ہی کرتے رہیں گے یا آگے بڑھ کر کچھ اور بھی کریں گے؟

حقیقی اردو کمپیوٹنگ تب تک شروع نہیں ہوسکتی جب تک کہ آپ کا کمپیوٹر بھی اردو نہ بولے، اردو کو صرف ویب تک محدود کرنا کسی طور دانشمندانہ اقدام نہیں، ویب پر اردو کی حاضری یقیناً ہونی چاہیے مگر اس کا آغاز ڈیسک ٹاپ سے ہونا چاہیے، آپریٹنگ سسٹم کوئی بھی ہوں، دنیا کی ہر بڑی زبان میں دستیاب ہوتے ہیں، یہ زبانیں بھی صرف وہ ہوتی ہیں جن کے بولنے والوں کو اپنی اور اپنی زبان کی بقاء کی فکر ہوتی ہے، باقی کی زبانیں ناپیدگی کے خطرے سے دوچار ہیں اور کچھ تو واقعتاً ہو بھی گئی ہیں، مائکروسوفٹ کی ونڈوز دنیا کی ہر زبان میں جاری کی جاتی ہے، مثلاً مشرقِ وسطی میں ہر نئے نسخے کا عربی نسخہ جاری کیا جاتا ہے، اسی طرح جرمنی میں جرمن اور سپین میں ہسپانوی، مگر اردو نسخہ کبھی جاری نہیں کیا جاتا، ایک استثنائی حالت ونڈوز ایکس پی کے اردو پیک کی صورت میں ضرور ملتی ہے مگر اس کے بعد مائکروسوفٹ نے کچھ نہیں کیا اور ایپل نے تو یہ تکلف بھی نہیں کیا، کیا یہ تشویش کی بات نہیں؟ اور کیا ہمیں اس نہج پر سوچنے اور اقدامات اٹھانے کی ضرورت نہیں؟

ہم شاید عالمی اداروں کو مجبور نہ کر سکتے ہوں لیکن معاملات کو اپنے ہاتھ میں ضرور لے سکتے ہیں، اور اس مقصد کی تکمیل کے لیے آزاد مصدر (اوپن سورس) سوفٹ ویئر ہی وہ واحد ذریعہ ہیں جن سے اردو کمپیوٹنگ کے اعلی مقاصد بھرپور طریقے سے حاصل کیے جاسکتے ہیں، ایسا بھی نہیں ہے کہ اس نہج پر اس سے پہلے کبھی سوچا نہیں گیا، ماضی میں لینکس کے مشہورِ زمانہ ڈیسک ٹاپ گنوم کے اردو ترجمہ کی کوشش ضرور ہوئی مگر یہ ناکامی سے دوچار ہوئی اور بات صرف بلند وبانگ دعووں تک ہی محدود رہی اور بالآخر خاموشی چھا گئی۔

پاک لینکس اسی خاموشی کو توڑنے کی ایک کوشش ہے، ہمارا یقین ہے کہ زبانِ غیر سے شرحِ آرزو نہیں کی جاسکتی، پاک وہند کے اردو دان طبقے کی اکثریت انگریزی سے نا بلد ہے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس انقلاب سے کما حقہ فیض یاب نہیں ہو پا رہی، انگریزی سے نا بلند صارف کمپیوٹر سے گزر کر ہی ویب تک پہنچے گا اور اگر وہ پہلے مرحلے پر ہی گھبرا گیا تو ویب تک کبھی نہیں پہنچ پائے گا اب آپ بھلے ویب کو اردو سے بھر دیجیے، ایسے صارف کے لیے اس کا کوئی فائدہ نہیں۔

لینکس کے ڈیسک ٹاپوں کو مقامیانے کے سابقہ منصوبوں کی ناکامی کو دیکھتے ہوئے ہم نے 2009 میں ایک جامع اور مستقل اردو لینکس کے منصوبے پر سنجیدگی سے غور کرنا شروع کیا، اس سلسلے میں اردو برادری سے رابطے اور مشورے کیے، بہت سوں نے اس منصوبے کے خیال کو سراہا اور ساتھ دینے کے وعدے کیے مگر وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہوجائے کی مصداق جب عمل کا وقت آیا تو سب ساتھ چھوڑ گئے، آخر کار ہم نے اکیلے ہی جانبِ منزل چلنے کا فیصلہ کیا اس امید کے ساتھ کہ جب چل پڑیں گے تو کاروان بنتا چلا جائے گا، اردو سلیکس اور اردو ابنٹو ہمارے اس تنہا اور ❞سست❝ سفر کے عکاس ہیں، یہ منزل نہیں شروعات ہے، آپ کو اس کاروان میں شامل ہونے کی کھلی دعوت ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ یہ منصوبہ دو سال قبل بھی کافی حد تک تیار تھا اور جاری کیا جاسکتا تھا، مگر بہت سے تکنیکی مسائل اس کے اجراء کی راہ میں آڑے آتے رہے، دراصل یہ کام اتنا آسان تھا نہیں جتنا کہ شروع میں ہم نے اسے سمجھ رکھا تھا، ایک مسئلے سے جوجتے تو دوسرا سر اٹھا لیتا اور ہم کمال کے حصول کی غلط فہمی میں مبتلا اسے خامیوں سے پاک کرنے کی جستجو میں لگے رہے اور وقت گزرتا چلا گیا، دو سال کے بعد جا کر ہم نے یہ سبق سیکھا کہ حصولِ کمال اگر نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے، خاص طور سے اگر تکنیکی اور فنی اہلیت کی بھی کمی ہو، اس دوران اوپن سورس کی دنیا میں بہت کچھ تبدیل ہوا جس کے نتیجے میں پیچیدگیوں میں مزید اضافہ ہوتا چلا گیا اور کام مزید بڑھ گیا، لہذا اس سال ہم نے اسے ہر حال میں جاری کرنے کا فیصلہ کیا کہ خامیاں تو بڑی بڑی ڈیسٹریبیوشنز میں بھی ہوتی ہیں، پاک لینکس بھی اس سے مبرا نہیں، اس میں بھی خامیاں موجود ہیں، مگر ہمیں یقین ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہم ان خامیوں پر قابو پا لیں گے اور یہ ایک بہترین اردو ڈیسٹریبیوشن کے طور پر ابھر کر سامنے آئے گی اور اردو کمپیوٹنگ کے میدان میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔

پاک لینکس میں ہم نے پوری کوشش کی ہے کہ صرف ڈیسک ٹاپ کا ہی ترجمہ نہ کیا جائے بلکہ روز مرہ کے استعمال کے دیگر سوفٹ ویئر بھی اردو قالب میں پیش کیے جائیں جیسے ویب براؤزر، سپریڈ شیٹ، مسنجر، ای میل کلائینٹ، ڈاؤنلوڈ منیجر، ٹیکسٹ ایڈیٹر، تصاویر ایڈیٹر، ایڈریس بک، ویڈیو پلیئر، آڈیو پلیئر، ویڈیو ایڈیٹر وغیرہ۔۔ الغرض ہر چیز آپ کو بزبانِ اردو وبخطِ نستعلیق ملے گی۔

پاک لینکس فی الحال دو الگ الگ نسخوں میں پیش کی جا رہی ہے، گنوم 3 اور ایکسفس ڈیسک ٹاپ، ایلکسڈی کو پذیرائی نہ ملنے کے سبب منصوبے سے خارج کردیا گیا ہے، تاہم پاک لینکس کا مرکزی نسخہ ابھی تیاری کے مراحل میں ہے اور جلد ہی جاری کردیا جائے گا۔

اب یہ منصوبہ آپ کے سامنے ہے، پاک لینکس کے متعلق دیگر تفصیلات اور منصوبے آپ کو اس سائٹ کے مختلف صفحات پر مل جائیں گے جبکہ جاری کیے جانے والے دونوں نسخوں کی تصاویر آپ یہاں ملاحظہ کر سکتے ہیں، یہ ویب سائٹ ابھی زیرِ تکمیل ہے، اس لیے بہت سے روابط اور صفحات ابھی نا مکمل ہیں اور ان کی تکمیل پر ابھی کام جاری ہے، ترجمہ بھی جلد ہی مناسب پلیٹ فارم کے ذریعے مفادِ عامہ کے لیے پیش کردیا جائے گا۔

ڈاؤنلوڈ کریں:

پاک لینکس 1 جناح گنوم ڈیسک ٹاپ

پاک لینکس 1 جناح ایکسفس ڈیسک ٹاپ

MD5 sums:
جناح گنوم: d533956dd526cdc7634093eb0b229101
جناح ایکسفس: e8ea09dfe5e563d85901dbbce23b9e6d

مسائل یہاں رپورٹ کریں

آپ کی آراء کا انتظار رہے گا۔

تبصرے 8